'آئندہ مالی سال کیلئے ترقیاتی کاموں کے تخمینے میں تبدیلی ممکن نہیں'

اپ ڈیٹ 15 مارچ 2019

ای میل

مالی مسائل کی وجہ سے اس کی گزشتہ سال کی سطح میں کوئی تبدیلی کا امکان نہیں —فائل فوٹو: اے پی
مالی مسائل کی وجہ سے اس کی گزشتہ سال کی سطح میں کوئی تبدیلی کا امکان نہیں —فائل فوٹو: اے پی

اسلام آباد: حکومت نے موجودہ سال کے لیے مختص رقم میں تبدیلی کیے بغیر آئندہ مالی سال کے لیے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے حجم کا تخمینہ 675 ارب روپے جبکہ اقتصادی ترقی کی شرح کو 4.6 فیصد لگایا گیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کے اجلاس میں پلاننگ کمیشن کی جانب سے یہ انکشاف کیا گیا کہ اقدامات کے سلسلوں میں حکومت کو ملک میں 'زرعی ایمرجنسی' کے نفاذ کا اعلان کرنا ہے اور آنے والے بجٹ میں تعمیراتی سیکٹر پر توجہ کے ساتھ ساتھ آئندہ 5 برسوں میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے ہیں۔

لہٰذا اسی تناظر میں آئندہ سال کے لیے زرعی پیداوار کا تخمینہ رواں سال کے 1.9 فیصد کے مقابلے میں 3.2 فیصد لگایا گیا ہے جبکہ آئندہ 5 برسوں کے منصوبے میں 3.3 فیصد کی اوسطاً شرح کے ساتھ 2023 تک یہ شرح 4 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: عالمی بینک سے 2.3 ارب ڈالر کی فنڈنگ میں سرخ فیتہ حائل

اسی طرح صنعت کی رواں مالی سال 2.8 فیصد شرح نمو کے مقابلے میں آئندہ مالی سال کے لیے 4.3 فیصد شرح نمو کے تعین کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ آئندہ 5 برسوں میں 5.8 کی سالانہ اوسطاً ترقی کی شرح کے ساتھ 2023 تک صنعت کے 8.4 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔

اس کے علاوہ مجموعی اقتصادی ترقی رواں سال 4 فیصد سے بڑھ کر آئندہ سال 4.6 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے جبکہ آئندہ برسوں میں 5.4 فیصد اوسط کے ساتھ 21-2020 میں یہ جی ڈی پی کے 5.5 فیصد، 22-2021 میں 6.3 فیصد اور 23-2022 میں کی 6.7 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔

پلاننگ کمیشن کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان اہداف کو ابھی حتمی نہیں کہا جاسکتا اور انہیں عارضی طور پر لینا چاہیے، تاہم ان اہداف کے حصول کے لیے متعدد پالیسیز، منصوبے اور اقدامات کیے گئے ہیں۔

اس موقع پر اجلاس کی صدارت کرنے والے جنید اکبر نے بریفنگ کے لیے شیڈول کے باجود وزیر ترقی و منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار کی غیر حاضری پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

کمیٹی اراکین کی جانب سے مختلف منصوبوں پر بھی سوالات اٹھائے گئے، ان کے مطابق ان منصوبوں کو زمینی حقائق کو جانے بغیر دفاتر میں تیار کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: رمضان پیکج اور سرکاری اداروں کیلئے 10ارب کی اضافی امداد منظور

دوران اجلاس سیکریٹری منصوبہ بندی ظفر حسن نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت خزانہ نے آئندہ سال کے پی ایس ڈی پی کے لیے باضابطہ طور پر وسائل کے استعمال کا نہیں بتایا تاہم مالی مسائل کی وجہ سے اس کی گزشتہ سال کی سطح میں کوئی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ کے بجٹ کی حد کی بنیاد پر پلاننگ کمیشن نے تمام وزارتوں اور محکموں سے نئے منصوبوں کی ترجیحی فہرست بھیجنے کا کہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پلاننگ ڈویژن پی ایس ڈی پی کے 80 فیصد فنڈز کو جاری منصوبوں کے لیے مختص کیا جائے گا جبکہ نئے منصوبوں کے لیے زیادہ سے زیادہ 25 فیصد فنڈز کی ادائیگی کی جائے گی۔