یوکرین میں 'جارحیت': امریکا، یورپی ممالک کی روس پر نئی پابندیاں

اپ ڈیٹ 16 مارچ 2019

ای میل

روس نے یوکرین کے بحری جنگی جہاز پر حملے کرائے، امریکا — فائل فوٹو / اے ایف پی
روس نے یوکرین کے بحری جنگی جہاز پر حملے کرائے، امریکا — فائل فوٹو / اے ایف پی

امریکا، یورپی ممالک اور کینیڈا نے یوکرین میں مسلسل ’جارحیت‘ کے الزام میں ایک درجن سے زائد روسی افراد اور تجارتی کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق امریکی انتظامیہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ’موجودہ اقدام ان انفرادی لوگوں اور کمپنیوں کے خلاف تھا جو یوکرین کے بحری جنگی جہاز پر حملے میں اپنا کردار ادا کرتے رہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: روسی جاسوس کے قتل کی کوشش،’صدر پوٹن اصل قصوروار ہیں‘

اعلامیے میں کہا گیا کہ ’روس کی جانب سے یوکرین کے مشرقی حصے میں غیر قانونی علیحدگی پسندوں کی حکومتی انتخابات کرانے میں مدد کی جارہی ہے‘۔

امریکا سمیت دیگر ممالک کی جانب سے روسی محکمہ دفاع کے 6 حکام، دیگر اعلیٰ عہدوں پر فائز 6 افسران، 2 روسی توانائی اور کریما میں تعمیراتی کمپنیوں پر پابندی عائد کی گئی۔

خیال رہے کہ روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں اور ماسکو کے خلاف یوکرین کے جاری تنازع میں یہ اقدام اب تک کی سب سے بڑی محاذ آرائی ہے۔

حالیہ اقدام نے پہلے سے جاری تنازع کی شدت میں اضافے کا خدشہ پیدا کردیا ہے جس کی وجہ سے بین الاقومی سطح پر اس کے پرامن حل کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے، جس میں 2014 کے بعد سے اب تک 10 ہزار سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں۔

مزید پڑھیں: یورپین ممالک کی برطانیہ سے اظہار یک جہتی، روسی سفارت کار معطل

حالیہ تنازع میں مغربی ممالک، یوکرین کی حمایت کررہے ہیں اور ان کی جانب سے روس پر بغیر کسی وجہ کے بحرِ ایزوز کا راستہ بند کرنے اور فوجی کارروائی کا الزام بھی عائد کیا گیا۔

اس سلسلے میں برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اور دیگر ممالک نے بھی یوکرین کی حمایت کا اعلان کیا جبکہ یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے روس سے بحری عملے کو واپس یوکرین کے حوالے کرنے اور مزید کسی اشتعال انگیزی سے باز رہنے کا مطالبہ کیا۔