امریکا، افغان مفاہمتی عمل میں پاکستان کے کردار کا معترف

اپ ڈیٹ 01 اپريل 2019

ای میل

زلمے خلیل زاد افغان مفاہمتی عمل کے لیے امریکا کے مندوبِ خصوصی ہیں—فوٹو: فائل/اے پی
زلمے خلیل زاد افغان مفاہمتی عمل کے لیے امریکا کے مندوبِ خصوصی ہیں—فوٹو: فائل/اے پی

واشنگٹن: امریکی خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد نے افغان مفاہمتی عمل میں پاکستان کی غیر جانبداری کو سراہتے ہوئے تمام افغان فریقین پر زور دیا ہے کہ آئندہ انتخابات اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے یکساں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے، یورپی یونین کے اعلیٰ عہدیدار فیڈریکا مغیرنی کی تجویز کی روشنی میں ان کا کہنا تھا کہ بات چیت اس طرح متحد ہو کر کی جائے جیسے کہ انتخابات نہیں ہیں اور انتخابات میں اس طرح حصہ لیا جائے کہ جیسے کوئی مذاکرات نہیں ہورہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کے آغاز میں افغانستان میں ہونے والے صدارتی انتخابات کو دوسری مرتبہ موخر کردیا گیا تھا۔

20 اپریل کو مقرر کردہ انتخاب کو پہلے سیکیورٹی خدشات کی بنا پر 20 جولائی تک موخر کیا گیا تھا جس کے بعد اس کی تاریخ 28 ستمبر کردی گئی تھی، جس کا مقصد طالبان کےساتھ مذاکرات کے لیے وقت حاصل کرنا تھا جو افغان حکومت سے براہِ راست بات چیت کرنے سے اب بھی انکاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کو امریکا سے معاہدہ طے پانے کی توقع

خیال رہے کہ زلمے خلیل زاد افغان فریقین کے باہمی مذاکرات کی کوششوں کے سلسلے میں متعدد ممالک کے دورے پر ہیں، جن کا کہنا تھا کہ پاکستان نے یقین دہانی کروائی ہے کہ اس کا افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں۔

اس بارے میں گزشتہ ہفتے سامنے آنے والی میڈیا رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں نگراں حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات میں معاون ہوگی جس پر وزارت خارجہ نے وضاحت کی تھی کہ وزیراعظم کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، وزیراعظم افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔

مذکورہ وضاحت سے افغان حکومت بھی مطمئن ہوگئی تھی جس پر انہوں نے اسلام آباد سے اپنا واپس بلوایا گیا سفیر دوبارہ پاکستان بھیج دیا تھا۔

اس حوالے سے زلمے خلیل زاد نے کہا تھا کہ برسلز میں امریکا، یورپی یونین اور نیٹو حکام کے ساتھ افغانستان میں گزشتہ 18 سال کے معنی خیز سیاسی و سماجی فوائد کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔

مزید پڑھیں: امریکا اور طالبان تمام اہم معاملات پر رضامند ہوگئے، زلمے خلیل زاد

بالخصوص خواتین اور بچوں کی صورتحال کے بارے میں بات چیت ہوئی اور اس بات پر آمادگی کا اظہار کیا گیا کہ افغان مفاہمتی عمل میں ان فوائد کو لازمی ترجیح دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مشترکہ ہدف ایسا امن سمجھوتہ کرنا ہے جو دہائیوں سے جاری رہنے والی جنگ میں دی گئیں قربانیوں کے شایانِ شان ہو‘۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایسے سیاسی حل کے لیے افغان فریقین کے مابین حقیقی مذاکرات کے لیے کوشاں ہیں جس سے تنازع اختتام پذیر ہو۔