پاکستان کا آئی ایم ایف پیکج رکوانے کیلئے امریکا میں بھارتی لابی سرگرم

اپ ڈیٹ 07 اپريل 2019

ای میل

آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹین لگارڈے وزیر خزانہ اسد عمر سے مصافحہ کر رہی ہیں— تصویر بشکریہ آئی ایم ایف
آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹین لگارڈے وزیر خزانہ اسد عمر سے مصافحہ کر رہی ہیں— تصویر بشکریہ آئی ایم ایف

واشنگٹن: وزیر خزانہ اسد عمر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سمیت عالمی بینک گروپ کے موسم بہار کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے رواں ہفتے امریکا پہنچیں گے جہاں وہ عالمی مالیاتی ادارے کے بیل آؤٹ پیکج پر خصوصی گفتگو کریں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسد عمر نے جمعہ کو پریس بریفنگ کے دوران بیان میں کہا تھا کہ انہیں اُمید ہے کہ امریکا سے مذاکرات سودمند رہیں گے اور اس ماہ کے آخر تک پاکستان آئی ایم یاف کے بیل آؤٹ پیکج پر دستخط کر دے گا۔

مزید پڑھیں: مہنگائی کا سبب خسارہ ہے جو عوام کیلئے تکلیف دہ ہے، وزیر خزانہ

اسد عمر 8 اپریل کو شروع ہونے والے موسم بہار کے اجلاس کے آغاز کے ایک دن بعد منگل کو امریکا پہنچیں گے جہاں یہ اجلاس 8 سے 14 اپریل تک منعقد ہوں گے۔

آئی ایم ایف مشن ممکنہ طور پر رواں ماہ کے آخر میں پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ پیکج کو حتمی شکل دی جاسکے۔

تاہم پاکستان کو ممکنہ طور پر آئی ایم ایف سے ملنے والی امداد کو روکنے کے لیے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں بھارتی لابی نے پاکستان مخالف مہم شروع کردی ہے۔

جمعہ کو امریکی کانگریس کے 3 اراکین، ٹیڈ ایس یوہو، ایمی بیرا اور جیورج ہولڈنگ نے امریکی سیکریٹریز آف اسٹیٹ اور ٹریژری کو خط لکھ کر ان سے کہا تھا کہ وہ آئی ایم ایف کو پاکستان سے معاہدہ کرنے سے روکا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کا نئی 'ٹیکس ایمنسٹی اسکیم' لانے کا عندیہ

کانگریس کے اراکین نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان آئی ایم ایف کا قرض پاک-چین اقتصادی راہداری کے لیے چین سے لیے گئے قرض کو چکانے کے لیے استعمال کرے گا، ان میں سے 2 اراکین بیرا اور ہولڈنگ کانگریس میں بھارتی امور کو دیکھتے ہیں۔

پاکستان نے گزشتہ سال اکتوبر میں آئی ایم ایف سے باقاعدہ قرض کی درخواست کی تھی اور اس کے بعد سے اب تک پاکستان اور آئی ایم ایف کے سینئر حکام کے درمیان کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں تاکہ قرض کو حتمی شکل دی جا سکے۔

بڑھتے ہوئے خسارے، کم ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر، کم برآمدات، گرتے ہوئے ٹیکس ریونیو، کمزور کرنسی اور غیر ملکی قرض کی ادائیگی کے دباؤ کے سبب پاکستان کے معاشی حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں جس کے باعث پاکستان کو ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف پیکج کے لیے رجوع کرنا پڑ رہا ہے۔

اب تک معاشی بحران سے نکلنے کے لیے کیے گئے تمام تر اقدامات ناکام ثابت ہوئے ہیں اور سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات سے قرض کے باوجود روپے کی قدر مستقل کم ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان مطلوبہ نتائج کے حصول میں ناکام رہا اور اسے آئی ایم ایف پیکج کے لیے رجوع کرنا پڑا۔