ایپل چین کی جگہ بھارت میں آئی فونز کی پروڈکشن کے لیے تیار

15 اپريل 2019

ای میل

آئی فون ایکس اور ایکس ایس میکس — رائٹرز فوٹو
آئی فون ایکس اور ایکس ایس میکس — رائٹرز فوٹو

ایپل دنیا کے مقبول ترین اسمارٹ فونز یعنی آئی فون تیار کرنے والی کمپنی ہے اور وہ اب اپنی مہنگی ترین ڈیوائسز کو چین کی بجائے بھارت میں تیار کرنے کے لیے تیار ہے۔

ایپل اپنی تائیوان کی شراکت دار کمپنی فوکس کون کی مدد سے رواں سال فلیگ شپ فونز کی اسمبلنگ بھارت میں شروع کرنے والی ہے۔

فوکس کون ٹیکنالوجی گروپ کے چیئرمین ٹیری گو کے مطابق بھارت میں آئی فون کی بڑے پیمانے پر پروڈکشن رواں سال شروع ہوجائے گی جو کہ ایپل کی چین میں فونز کی تیاری کی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی ثابت ہوگی۔

اہم بات یہ ہے کہ بھارت میں مہنگے ترین آئی فونز جیسے آئی فون ایکس اور اس کے بعد کے ماڈلز کو اسمبل کیا جائے گا اور کمپنی کو توقع ہے کہ اس سے بھارت جیسی مارکیٹ میں اس کا بزنس بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔

ایپل اس وقت بھارت میں ایک پلانٹ میں پرانے فونز کئی سال سے تیار کررہی ہے مگر اب وہ نئے ماڈلز کی پروڈکشن کے لیے تیار ہے۔

بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق فوکس کون نئے آئی فونز کی آزمائشی پروڈکشن کے لیے تیار ہے جس کے بعد بڑے پیمانے پر چنائی میں فونز کی تیاری کا عمل شروع ہوگا۔

ٹیری گو کا اس بارے میں کہنا تھا کہ مستقبل میں ہماری کمپنی بھارت کی اسمارٹ فون انڈسٹری میں بہت اہم کردار ادا کریں گے کیونکہ ہم اپنی پروڈکشن لائن وہاں منتقل کررہے ہیں۔

گزشتہ سال ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ آئی فونز کی اسمبلنگ بھارت میں کرنے کا مقصد ایپل کو امریکا اور چین کے درمیان جاری تجارتی جنگ کے اثرات سے بچانا ہے۔

ایپل نے اس رپورٹ پر بات کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ فوکس کون کا کہنا تھا کہ وہ اپنے صارفین یا پراڈکٹس کے بارے میں بیان جاری نہیں کرتی۔

اس سے قبل گزشتہ سال دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرونکس مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی سام سنگ نے بھی بھارتی شہر نوئیڈا میں دنیا کی سب سے بڑی موبائل فون تیار کرنے والی فیکٹری کو آپریشنل کردیا تھا۔

سام سنگ کے مطابق اس فیکٹری میں سالانہ 12 کروڑ فونز تیار کیے جاسکیں گے جبکہ دیگر برقی مصنوعات جیسے فریج اور ٹیلیویڑن وغیرہ کی پروڈکشن کا بھی امکان ہے۔

35 ایکڑ پر پھیلی یہ فیکٹری سام سنگ کو اس خطے کے دیگر ممالک میں مصنوعات برآمد کرنے میں مددگار ثابت ہوگی کیونکہ ایسا جلد ممکن ہوسکے گا اور اسے حریف کمپنیوں پر سبقت حاصل ہوجائے گی۔