بی جے پی خاتون رہنما کے مارے جانے والے پولیس افسر پر سنگین الزامات

اپ ڈیٹ 19 اپريل 2019

ای میل

سدھوی پرگیا ٹھاکر کو ایک ماہ تک جیل میں رکھا گیا تھا—فائل فوٹو: اسکرول
سدھوی پرگیا ٹھاکر کو ایک ماہ تک جیل میں رکھا گیا تھا—فائل فوٹو: اسکرول

بھارت میں ہونے والے 17 ویں لوک سبھا انتخابات کی وجہ سے سیاستدان جہاں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

وہیں سیاستدان سرکاری افسران کے خلاف بھی بیان بازی کرکے اپنے ووٹرز کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔

حکمران جماعت ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ (بی جے پی) کی رہنما سدھوی پرگیا ٹھاکر نے بھی انتخابی مہم کے دوران دہشت گرد حملے میں ہلاک ہوجانے والے پولیس افسر پر سنگین الزامات عائد کیے، جس کے بعد کئی لوگ انہیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

نیوز 18 کے مطابق سدھوی پرگیا ٹھاکر نے ریاست مدھیا پردیش کے شہر بھوپال میں پارٹی کارکنان سے خطاب کے دوران 26 ستمبر 2011 میں ممبئی میں ہونے والے حملے میں مارے جانے والے پولیس افسر ہمنت کرکرے پر سنگین الزامات عائد کیے۔

کارکنان سے خطاب کے دوران سدھوی پرگیا جذباتی ہوگئیں اور رو پڑیں—فوٹو: این ڈی ٹی وی
کارکنان سے خطاب کے دوران سدھوی پرگیا جذباتی ہوگئیں اور رو پڑیں—فوٹو: این ڈی ٹی وی

سدھوی پرگیا ٹھاکر نے کارکنان کو اپنی گرفتاری اور ہمنت کرکرے کی جانب سے اپنے اوپر کیےجانے والے تشدد کی لرزہ خیز کہانی سنائی اور بتایا کہ انہیں کس طرح بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

سدھوی پرگیا ٹھاکر نے دعویٰ کیا کہ انہیں ہمنت کرکرے نے نہ صرف بدترین تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ مبینہ طور پر وہ ان کے انکاؤنٹر کا منصوبہ بھی بناچکے تھے۔

بی جے پی رہنما نے بتایا کہ انہیں پولیس نے 2008 میں ریاست گجرات اور مہاراشٹر میں ہونے والے بم دھماکوں کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

سدھوی پرگیا ٹھاکر کے مطابق انہیں نہ صرف بلے سے مارا جاتا، بلکہ ان کے زخمی ہاتھوں کو گرم پانی میں نمک ملا کر دیر تک ڈبویا جاتا۔

سدھوی پرگیا ٹھاکر بھوپال سے بی جے پی کی ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہی ہیں—فوٹو: ڈی این اے انڈیا
سدھوی پرگیا ٹھاکر بھوپال سے بی جے پی کی ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہی ہیں—فوٹو: ڈی این اے انڈیا

کارکنان سے خطاب کے دوران سدھوی پرگیا ٹھاکر جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔

سدھوی پرگیا ٹھاکر کے مطابق ہمنت کرکرے نے انہیں پولیس انکاؤنٹر میں بھی مارنے کا منصوبہ بنالیا تھا۔

بی جے پی رہنما نے بتایا کہ پولیس کی حراست کے دوران بدترین تشدد کے وقت انہوں نے پولیس انسپکٹر ہمنت کرکے کو بد دعا دی تھی اور کہا تھا کہ ان کا حشر بدترین ہوگا۔

سدھوی پرگیا ٹھاکر کے مطابق ان کی بد دعا کے محض 45 دن بعد پولیس انسپکٹر ہمنت کرکرے ممبئی میں حملے کے دوران فائرنگ کا نشانہ بنے اور ان کا حشر بدتر ہوا۔

خیال رہے کہ سدھوی پرگیا ٹھاکر بھوپال سے بی جے پی کی رکن ہیں اور ان پر 2008 میں مہارا شٹر اور گجرات میں سلسلہ وار بم دھماکوں کی سازش کا الزام تھا۔

ان دھماکوں میں کم سے کم 10 افراد ہلاک جب کہ 30 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔

بی جے پی رہنما نے جس پولیس افسر پر الزامات لگائے انہیں حکومت نے ایوارڈ بھی دیے—فوٹو: نیوز 18
بی جے پی رہنما نے جس پولیس افسر پر الزامات لگائے انہیں حکومت نے ایوارڈ بھی دیے—فوٹو: نیوز 18

پولیس کے مطابق بم دھماکوں میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل سدھوی پرگیا ٹھاکر کی تھی۔

بھارت کے تحقیقاتی اداروں اور پولیس نے انہیں تقریباً ایک ماہ تک زیر حراست رکھا تھا۔

بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا اور تاحال وہ ضمانت پر رہا ہیں۔

جیل سے رہا ہونے کے بعد انہیں بریسٹ کینسر سمیت دیگر بیماریاں لاحق ہوگئی تھیں۔

سدھوی پرگیا ٹھاکر نے جس پولیس افسر پر سنگین الزامات لگائے، بھارتی حکومت نے انہیں بہادری کے متعدد ایوارڈ بھی دیے تھے۔

انتخابی مہم کے دوران وہ پولیس اور تحقیقاتی اداروں پر تنقید کرتی دکھائی دیتی ہیں—فوٹو: انڈین ایکسپریس
انتخابی مہم کے دوران وہ پولیس اور تحقیقاتی اداروں پر تنقید کرتی دکھائی دیتی ہیں—فوٹو: انڈین ایکسپریس