اورماڑہ دہشتگردی: پاکستان کا 14 سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل پر ایران سے احتجاج

اپ ڈیٹ 20 اپريل 2019

ای میل

پاکستان نے ایران کو مراسلہ ارسال کرکے احتجاج کیا—فوٹو:شٹر اسٹاک
پاکستان نے ایران کو مراسلہ ارسال کرکے احتجاج کیا—فوٹو:شٹر اسٹاک

پاکستان نے بلوچستان کے علاقے اورماڑہ میں دہشت گردی کے نتیجے میں 14 سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل پر ایران سے احتجاج کرتے ہوئے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کردیا۔

وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں احتجاجی مراسلہ اسلام آباد میں قائم ایرانی سفارتخانے کو بھیجا، جس میں کہا گیا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لیے پہلے بھی ایران سے کئی مرتبہ مطالبہ کیا جاچکا ہے۔

پاکستان کا کہنا تھا کہ ایف سی یونیفارم میں ملبوس 15 سے 20 دہشتگردوں نے اورماڑہ میں گوادر کے قریب 3 سے 4 بسوں کو روکا، جو اورماڑہ سے گوادر کوسٹل ہائی وے پر سفر کر رہی تھیں۔

مزید پڑھیں: بلوچستان: مکران کوسٹل ہائی وے پر 14 مسافروں کو بسوں سے اتار کر قتل کردیا گیا

احتجاجی مراسلے میں مزید کہا گیا کہ بزی ٹاپ کے قریب دہشتگردوں نے بسوں کو روکا اور بسوں میں مسافروں کی شناخت پریڈ کے بعد مسلح افواج کے 14 اہلکاروں کو فائرنگ کرکے شہید کردیا گیا۔

مراسلے میں مزید کہا گیا کہ پاکستان ایران کو ان بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے تربیتی کیمپوں اور سرحد پار لاجسٹک بیسز سے آگاہ کرچکا ہے اور پاکستانی انٹیلی جنس شیئرنگ کے باوجود ان دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

پاکستان نے دہشت گردی کے اس واقعہ پر احتجاج کرتے ہوئے ایران سے دہشتگرد تنظیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

یاد رہے کہ 18 اپریل 2019 کو صوبہ بلوچستان میں مکران کوسٹل ہائی وے کے قریب مسلح افراد نے 14 مسافروں کو بسوں سے اتار کر فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) بلوچستان محسن حسن بٹ نے بتایا تھا کہ بزی ٹاپ کے علاقے میں رات 12.30 سے ایک بجے کے درمیان تقریباً 15 سے 20 مسلح افراد نے کراچی سے گوادر آنے اور جانے والی متعدد بسوں کو روک کر اس میں موجود مسافروں کے شناختی کارڈ دیکھے اور انہیں گاڑی سے اتار کر قتل کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ ایک بار پھر دہشت گردی کی زد میں

ابتدا میں شہید ہونے والے مسافروں کی شناخت نہیں ہوسکی تھی تاہم بعد ازاں حکام کی جانب سے آگاہ کیا گیا تھا تمام شہید افراد کا تعلق سیکیورٹی اداروں سے تھا۔

علاوہ ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان نے مکران کوسٹل ہائی وے پر بے گناہ افراد کو نشانہ بنانے کے دہشت گردانہ عمل کی سخت مذمت کی تھی۔

خیال رہے کہ بسوں سے اتار کر مسافروں کو اس طرح سے قتل کرنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اس سے قبل بھی ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔

اسی طرح کا ایک واقعہ 2015 میں بلوچستان کے علاقے مستونگ میں پیش آیا تھا، جہاں مسلح افراد نے کراچی سے تعلق رکھنے والی کوچز کے تقریباً 2 درجن مسافروں کو اغوا کرلیا تھا، جس کے بعد کھڈ کوچا کے علاقے میں پہاڑوں پر 19 افراد کو قتل کردیا تھا۔

وزیراعظم کا 2 روزہ دورہ ایران

علاوہ ازیں دفتر خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم عمران خان کل (بروز اتوار) سے ایران کا 2 روزہ دورہ کریں گے۔

یاد رہے کہ 15 اپریل 2019 کو دفتر خارجہ سے جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا تھا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب حسن روحانی کی دعوت پر وزیراعظم عمران خان 21 اور 22 اپریل 2019 کو ایران کا سرکاری دورہ کریں گے‘۔

اس سے قبل وزیراعظم کو طے شدہ شیڈول کے مطابق رواں برس جنوری میں ایران کا دورہ کرنا تھا، جسے نامعلوم وجوہات کی بنا پر آخری لمحات میں ملتوی کردیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کے پہلے دورۂ ایران کی تاریخ 3 ماہ بعد مقرر

جس کے بعد گزشتہ کئی روز سے ملکی ذرائع ابلاغ میں دورہ ایران کی تاریخوں کے حوالے سے مختلف رپورٹس گردش کررہی تھی تاہم بے یقینی کی یہ کیفیت دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کے بعد دور ہوگئی۔

دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات کے درمیان سرحد پر سیکیورٹی کی صورتحال کے باعث کبھی کبھی تلخی بھی آجاتی ہے۔

تاہم نومبر 2017 میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ ایران سے ان تعلقات میں خوشگوار دور کا آغاز ہوا لیکن وہ بھی زیادہ عرصے تک جاری نہ رہ سکا۔

اس سلسلے میں ایک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ وزیراعظم کے دورہ ایران کے ایجنڈے میں سرحدی سلامتی کی صورتحال کا معاملہ سب سے اہم رہے گا۔