وزیر اعظم عمران خان دو روزہ سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے

اپ ڈیٹ 21 اپريل 2019

ای میل

وزیراعظم نے تہران پہنچنے سے قبل مشہد میں مختصر ٹھہراؤ کیا
— فوٹو: بشکریہ وزیراعظم ہاؤس
وزیراعظم نے تہران پہنچنے سے قبل مشہد میں مختصر ٹھہراؤ کیا — فوٹو: بشکریہ وزیراعظم ہاؤس

وزیراعظم عمران خان ایرانی صدر کی دعوت پر دو روزہ سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے۔

وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیراعظم کی جانب سے پڑوسی ملک تہران کا پہلا دورہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اورماڑہ میں دہشت گردی کے واقعے پر پاکستان کا ایران سے احتجاج

اس حوالے سے بتایا گیا کہ ’وزیراعظم نے تہران پہنچنے سے قبل مشہد میں مختصر ٹھہراؤ کیا جہاں صوبہ خراسان رضوی کے گورنر علی رضا حسینی نے عمران خان کا استقبال کیا‘۔

ایران میں پاکستانی سفیر رفعت مسعود سمیت سفارتی عملے اور تہران کے حکام نے مشہد ایئرپورٹ پر وزیراعظم کا استقبال کیا۔

وزیر اعظم نے اپنے وفد کے ہمراہ حضرت امام رضا کے مزار سمیت دیگر مقدس مقامات کا دورہ کیا۔

وزارت عظمیٰ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری، وزیر بحری امور سید علی حیدر زیدی، مشیر تجارت عبدالزاق داؤد، معاون خصوصی برائے بیرون ملک مقیم سید ذوالفقار عباس بخاری، خصوصی معاون برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ظفراللہ مرزا اور خصوصی معاون برائے پیٹرولیم ندیم بابر بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔

مزیدپڑھیں: اورماڑہ دہشتگردی: پاکستان کا 14 سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل پر ایران سے احتجاج

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران کی جانب سے رواں برس جنوری میں ایران کا دورہ طے تھا لیکن آخری لمحات میں وجوہات کا تذکرہ کیے بغیر ہی دورہ تہران ملتوی کردیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان اور ایران کے مابین سرحدی حصے پر سیکیورٹی کے مسائل کے سبب تعلقات میں سرد مہری ہے۔

گزشتہ روز پاکستان نے بلوچستان کے علاقے اورماڑہ میں دہشت گردی کے نتیجے میں 14 سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل پر ایران سے احتجاج کرتے ہوئے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

مزیدپڑھیں: بلوچستان: مکران کوسٹل ہائی وے پر 14 مسافروں کو بسوں سے اتار کر قتل کردیا گیا

وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں احتجاجی مراسلہ اسلام آباد میں قائم ایرانی سفارتخانے کو بھیجا، جس میں کہا گیا تھا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لیے پہلے بھی ایران سے کئی مرتبہ مطالبہ کیا جاچکا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق تہران میں وزیراعظم کے مذاکراتی ایجنڈے میں بارڈرسیکیورٹی کے مسائل سرفہرست ہوں گے۔