بنوں: پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار قتل

اپ ڈیٹ 23 اپريل 2019

ای میل

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مطابق ملزمان کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا — فوٹو: زاہد امداد
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مطابق ملزمان کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا — فوٹو: زاہد امداد

بنوں: پشاور میں انسداد پولیو مہم کے دوران بچوں کی حالت غیر ہوجانے کے حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہوں کے ایک روز بعد خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں نامعلوم افراد نے پولیو مہم کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔

پولیس نے پولیو مہم کے دوران رضاکاروں کی ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار پر حملے کی تصدیق کردی۔

بنوں کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر یاسر آفریدی نے ڈان نیوز کو بتایا کہ اے ایس آئی عمران پولیو مہم کے دوران رضاکاروں کی سیکیورٹی کی ڈیوٹی کے لیے جارہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ واقعہ ڈومال تھانے کی حدود میں پیش آیا۔

مزید پڑھیں: پشاور: پولیو مہم کے خلاف پروپیگینڈا کرنے والا شخص جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملزمان، جو موٹر سائیکل پر سوار تھے، کارروائی کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی ڈپارٹمنٹ واقعے کی تحقیقات کررہا ہے۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس سے اہلکار کی شہادت کی رپورٹ طلب کر لی۔

محمود خان کا کہنا تھا کہ شہید اہلکار کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور ساتھ ہی اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملزمان کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور: اسکول کے 75 بچوں کی حالت غیر،مشتعل افراد کا صحت مرکز پر دھاوا

گزشتہ روز صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے اسکول میں مبینہ طور پر پولیو ویکسینیشن کے بعد 75 بچوں کی حالت اچانک بگڑ گئی تھی، جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جبکہ مشتعل افراد نے صحت مرکز میں توڑ پھوڑ کرکے اسے نذر آتش کردیا تھا۔

بعد ازاں پشاور کی مقامی عدالت نے انسداد پولیو مہم کے خلاف مبینہ طور پر پروپیگینڈا کرنے اور بچوں کی طبیعت خرابی کا ڈرامہ رچانے والے ملزم کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔

پولیو رضاکاروں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے

خیال رہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں جاری انسداد دہشت گردی آپریشنز کے ردعمل کے طور پر طالبان اور دیگر عسکریت پسند متعدد بار پولیو ویکسینیشن سینٹرز سمیت ہیلتھ ورکرز کو نشانہ بنا چکے ہیں، جن کا ماننا ہے کہ پولیو کے قطرے پاکستانی بچوں کو بانجھ بنانے یا خفیہ معلومات اکھٹا کرنے کے لیے مغربی ممالک کا بہانہ ہیں۔

خصوصاً قبائلی علاقوں میں اس پریشان کن رجحان میں مزید اضافہ اُس وقت ہوا جب اس بات کا انکشاف ہوا کہ ابیٹ آباد کے قرب و جوار میں ایک پاکستانی فزیشن ڈاکٹر شکیل آفریدی کی جانب سے چلائی جانے والی ایک جعلی ہیپٹائٹس ویکسین مہم نے ہی امریکا کو مئی 2011 میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو تلاش کرکے ہلاک کرنے میں مدد دی۔

مغرب میں پولیو کا خاتمہ ہوئے طویل عرصہ گزر چکا ہے لیکن پاکستان میں طالبان کی جانب سے حفاظتی ویکسین پر پابندی، طبّی عملے کو حملوں کا نشانہ بنانے اور اس ویکسین کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے سے پولیو کا مرض ملک میں اب تک موجود ہے۔

پولیو انتہائی موذی وائرس ہے، جو عام طور پر حفظان صحت کی غیرتسلی بخش صورتحال کے باعث منتقل ہوجاتا ہے، اس وائرس کا کوئی علاج نہیں، جس سے زیادہ تر 5 سال سے کم عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں اور اسے صرف ویکسین کے ذریعے ہی روکا جاسکتا ہے۔