پشاور: اسکول کے 75 بچوں کی حالت غیر،مشتعل افراد کا صحت مرکز پر دھاوا

اپ ڈیٹ 22 اپريل 2019

ای میل

مشتعل افراد احتجاج کرتے ہوئے صحت مرکز پہنچ گئے اور توڑپھوڑ کی—اسکرین شاٹ
مشتعل افراد احتجاج کرتے ہوئے صحت مرکز پہنچ گئے اور توڑپھوڑ کی—اسکرین شاٹ

صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے اسکول میں 75 بچوں کی حالت اچانک بگڑ گئی، جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ مشتعل افراد نے صحت مرکز میں توڑ پھوڑ کرکے آگ لگادی۔

پشاور کے علاقے بڈھ بیر ماشو خیل میں واقع ایک نجی اسکول میں پیش آنے والے واقعے پر اسکول ٹیچر نے الزام لگایا کہ پولیو کی ٹیموں نے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائے جس کے فوری بعد بچوں کی حالت خراب ہوگئی، جنہیں اسکول انتظامیہ نے علاج کے لیے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کردیا۔

ضلع انتظامیہ اور مقامی لوگوں کے مطابق مبینہ پولیو کے قطرے پلانے کے بعد اسکول کے تقریباً 60 بچوں کی حالت بگڑ گئی۔

مزید پڑھیں: اربوں روپے کے انسداد پولیو اور ہائی وے منصوبوں کی منظوری

اس حوالے سے وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے انسداد پولیو بابر بن عطا نے کہا کہ اسکول انتظامیہ کافی عرصے سے پولیو ویکسینیشن سے انکار کر رہی تھی اور پہلی مرتبہ اس اسکول میں بچوں کو ویکسین دی گئی تھی۔

پولیس کی نفری صحت مرکز کے باہر موجود رہی—فوٹو: عارف حیات
پولیس کی نفری صحت مرکز کے باہر موجود رہی—فوٹو: عارف حیات

ڈان نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بچوں کی حالت پولیو کے قطروں کی وجہ سے نہیں بلکہ گرم موسم کی وجہ سے خراب ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں متاثرہ بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

اس بارے میں کوآرڈینیٹر ایمرجنسی آپریشن سینٹر کامران آفریدی کا کہنا تھا کہ پولیو ویکسین محفوظ ترین دوا ہے، اس سے کسی قسم کا ری ایکشن نہیں ہوتا ہے۔

کامران آفریدی نے مبینہ طور پر پولیو ویکسین سے بچوں کی حالت غیر ہونے پر کہا کہ اس خبر میں کوئی حقیقت نہیں ہے، ہمارے ماہرین نے ویکسین کو چیک کیا ہے، یہ زائد المیعاد نہیں ہے اور بالکل ٹھیک ہے۔

انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں آج بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جارہے ہیں، مذکورہ اسکول کی انتظامیہ پہلے سے بچوں کو پولیو قطرے پلانے سے انکار کررہی تھی جبکہ اسکول پرنسپل نے قطرے پلانے کے معاملے پر ہم سے جھگڑا بھی کیا تھا۔

وزیر اعلیٰ کا نوٹس

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ صحت کو فوری طور پر انکوائری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

یہ بھی پڑھیں: اربوں روپے کے انسداد پولیو اور ہائی وے منصوبوں کی منظوری

وزیر اعلیٰ محمود خان نے کہا کہ بچوں کی جلد صحتیابی میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے۔

والدین سراپا احتجاج

مشتعل افراد نے صحت مرکز میں آگ لگادی—فوٹو:عارف حیات
مشتعل افراد نے صحت مرکز میں آگ لگادی—فوٹو:عارف حیات

دوسری جانب واقعے کے بعد بچوں کے والدین اور مقامی افراد علاقے کے ہیلتھ سینٹر پہنچ گئے اور انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا۔

اس دوران مظاہرین مشتعل ہوگئے اور انہوں نے دوران احتجاج اسپتال کے دروازے اور کھڑکیاں بھی توڑ دیں۔

مشتعل افراد نے بنیادی صحت مرکز ماشو خیل کو آگ لگادی اور دیواریں بھی گرادیں جبکہ صورتحال مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے پولیس صحت مرکز پہنچ گئی۔

سارے معاملے پر ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر شہباز خٹک ٹاؤن ٹو کا کہنا تھا کہ 34 سو اسکولوں میں ہم نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے، تاہم ایک یا 2 اسکولز سے ایسی افواہیں موصول ہوئیں، اگر ویکسین کا مسئلہ ہوتا تو دیگر مقامات سے بھی اطلاعات آتیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کسی بھی افواہ کا شکار نہ ہوں اور بچوں کو ویکسین دیں، ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ مشتعل افراد نے بی ایچ یو کو نشانہ بنایا مگر تمام عملہ محفوظ ہے اور حالات کنٹرول میں ہیں۔

بچوں کی حالت خطرے سے باہر

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی انتظامیہ کے مطابق متاثرہ بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے، ہسپتال آنے والے اسکول کے متعدد بچوں کو سر اور پیٹ میں درد کی شکایات تھیں۔

اپنے بیان میں انتظامیہ نے کہا کہ بچے خطرے سے باہر ہیں اور ماہر ڈاکٹر ان کا معائنہ کر رہے ہیں اور حالت مزید بہتر ہونے پر ڈسچارج کیا جائے گا۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے ایم ڈی پروفیسر ڈاکٹر شہزاد اکبر نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ ہسپتال میں 75 بچے لائے گئے، ان بچوں کو داخل کرکے طبی امداد دی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ کچھ بچوں کو گھر بھیج دیا گیا، کچھ کو شام تک بھیج دیا جائے گا، تاہم معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

ڈاکٹر شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ بچوں نے ہسپتال میں نہ تو الٹیاں کی اور نہ ہی ایسی کوئی علامات نظرآئیں جبکہ کوئی بچہ بے ہوشی کی حالت میں بھی ہسپتال نہیں آیا۔

پولیو ویکسین سے ری ایکشن کا سوال ہی نہیں، صوبائی وزیر صحت

دوسری جانب اس سارے معاملے کے بعد صوبائی وزیر صحت اور سیکریٹری صحت نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کا دورہ کیا اور بڈھ بیڑ ماشوخیل سے لائے گئے بچوں کی عیادت کی اور ان کو دی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ تمام بچوں کو سر درد، قہہ اور متلی کی شکایات تھیں، اس سلسلے میں سیکریٹری صحت کو ہدایات جاری کردی ہیں کہ وہ پولیو ویکسین کے بیچ کی شفاف طریقے سے چھان بین کرے تاکہ اصل حقائق تک پہنچا جاسکے۔

صوبائی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ یہ وہ والدین ہیں جو پولیو ویکسین سے انکاری ہیں اور وہ مہم کو منفی رخ دینا چا رہے ہیں، اس ویکسین کے استعمال سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں بھی اپنے بچوں کو یہی ویکسین پلاتا ہوں، میرے لیے کوئی خصوصی ویکسین نہیں ہوتی۔

وزیر صحت خیبرپختونخوا ہشام انعام اللہ کا کہنا تھا کہ پولیو ویکسین سے کسی قسم کے ری ایکشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ صورتحال کا باریک بینی سے خود جائزہ لے رہے ہیں، اگر ویکسین میں کسی قسم کی کوتاہی ہوئی تو سخت ایکشن لیا جائے گا۔

صوبائی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ اب تک کی صورتحال سے لگتا نہیں کہ ویکسین سے بچوں کی حالت بگڑی ہے، تمام بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے، انسداد پولیو مہم کے خلاف اگر کسی نے سازش کی ہے تو اس کی بھی تحقیقات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پولیو فری بنانا ہم سب کا فرض ہے، پورے ملک میں مہم کامیابی سے چل رہی ہے، صرف 3 اسکولوں سے شکایات آئی ہیں، باقی کہیں سے ایسی شکایات موصول نہیں ہوئیں۔

ہشام انعام اللہ کا مزید کہنا تھا کہ پولیو مہم کے تحت 16 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے، اگر مزید کوئی ایسی شکایات موصول ہوئیں تو دیکھا جائے گا کہ مہم ملتوی کریں یا نہیں، فی الحال مہم جاری رہے گی۔

اس موقع پر انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پہلی مرتبہ پشاور میں 10 سال کے عمر کے بچوں کو بھی پولیو کے قطرے پلائے گئے ہیں۔