فوجی عدالتوں میں توسیع نہ ملنے پر حکام کا کیسز کی منتقلی پر غور

اپ ڈیٹ 02 مئ 2019

ای میل

مسلم لیگ (ن) فوجی عدالتوں میں توسیع پر پی ٹی آئی کی حامی ہے۔ — فائل فوٹو: اے ایف پی
مسلم لیگ (ن) فوجی عدالتوں میں توسیع پر پی ٹی آئی کی حامی ہے۔ — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: پاک فوج نے فوجی عدالتوں کو توسیع نہ ملنے کی صورت میں گرفتار دہشت گرودوں کے خلاف زیر سماعت کیسز کو منتقل کرنے پر غور کرنا شروع کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان کیسز کو وفاقی حکومت کو منتقل کیا گیا تو سیش عدالت یا انسدادِ دہشت گردی کی عدالتیں ان کیسز کو دیکھیں گی۔

خیال رہے کہ نیشنل ایکشن پلان 2015 کے تحت دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار شہریوں کے ٹرائل کے لیے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں آیا تھا، تاہم آئینی مدت ختم ہونے کے بعد رواں برس مارچ میں فوجی عدالتوں نے کام کرنا بند کردیا تھا۔

وزارتِ دفاع میں ڈائریکٹر لیگل بریگیڈیئر فلق ناز نے لاہور ہائی کورٹ میں مشتبہ دہشت گرد عبداللہ صالح کی رہائی کے لیے جمع کروائی گئی درخواست کے جواب میں ایک رپورٹ جمع کروائی جس میں انہوں نے بتایا کہ مذکورہ ملزم کے خلاف فوجی عدالت میں کیس جاری ہے جبکہ حکام فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کا انتظار کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق حکومت کی اپوزیشن سے مشاورت

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ تاہم فوجی عدالت کو پارلیمنٹ سے توسیع نہ ملنے کی صورت میں عبداللہ صالح سمیت دیگر ملزمان کا کیس مناسب فیصلہ کرنے کے لیے وفاقی حکومت کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔

خیال رہے کہ عبداللہ صالح، میجر (ر) محمد صالح کے صاحبزادے ہیں، جنہوں نے اپنے بیٹے کی گرفتاری کو جیلنج کیا ہوا ہے اور موقف اپنایا ہے کہ ان کے بیٹے کو خفیہ ایجنسیوں نے 28 اگست 2016 سے اپنی حراست میں رکھا ہوا ہے۔

بریگیڈیئر فلق ناز نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ عبداللہ صالح مبینہ طور پر دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے اور اس کا کیس فوجی عدالت میں موجود ہے، تاہم ان سمیت دیگر کیسز فوجی عدالتوں کی توسیع سے مشروط ہیں۔

فوج کی قانونی برانچ کے ایک سابق افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) امام الرحیم کے مطابق اگر ان کیسز کو وفاقی حکومت کو منتقل کیا جاتا ہے تو ملزمان کے کیسز متعلقہ صوبوں میں موجود سیشن عدالتوں اور انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کو منتقل کر دیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ملٹری اخراجات میں سر فہرست 20 ممالک میں شامل

فوجی عدالت میں جاری کیسز کی قسمت کے حوالے سے جب وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم سے بات کی گئی تو انہوں نے ڈان کو بتایا کہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس میں قانونی تشریح کی ضرورت ہے۔

جب انہیں باور کروایا گیا کہ انسداد دہشت گردی قانون ’پروٹیکشن آف پاکستان ایکٹ‘ کے ناکام ہونے کے بعد اس کے تحت رجسٹرڈ کیسز کو فوجی عدالت منتقل کیا گیا تھا تو وفاقی وزیر نے جواب دیا کہ پی او اے پی ایک مختلف قانون ہے اور اس کا پاکستان آرمی ایکٹ سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا جو فوجی عدالتوں کو دہشت گردوں کا ٹرائل کرنے کے لیے بااختیار بناتا ہے۔

اس وقت فوجی عدالت میں زیر سماعت کیسز کے بارے میں اعداد و شمار موجود نہیں ہیں لیکن وزیر دفاع پرویز خٹک نے رکن قومی اسمبلی محسن ڈاور کی جانب سے اٹھائے گئے سوال کے جواب میں ایوان زیریں کو بتایا تھا کہ فوجی عدالتوں کو اپنی مدت کے اختتام سے قبل دہشت گردی سے متعلق 185 کیسز کا فیصلہ کرنا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے فوجی عدالتوں کو مزید 2 برس کی توسیع دینے کا فیصلہ کرلیا تھا تاہم اسے پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کی حمیات حاصل کرنے میں پریشانی کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ 7 ملزمان کی سزائے موت معطل

پی ٹی آئی کے پاس مذکورہ ترمیم کے ساتھ فوجی عدالتوں کو آئندہ 2 برس کی توسیع دینے کے لیے پارلیمنٹ کے کسی بھی ایوان میں 2 تہائی اکثریت حاصل کرنی ہوگی جو ان کے پاس اس وقت موجود نہیں ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) فوجی عدالتوں کی توسیع سے متعلق پی ٹی آئی کی حامی دکھائی دیتی ہے تاہم وہ چاہتی ہے کہ حکومت اس معاملے میں تمام اپوزیشن جماعتوں کو راضی کرے۔

سینیٹر پرویز رشید فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے اور اس کی دوبارہ بحالی میں تاخیر پر پی ٹی آئی حکومت کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز رشید کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں کی توسیع میں پاکستان مسلم لیگ (ن) پاکستان تحریک انصاف کے بل کی حمایت کے لیے تیار ہے لیکن موجودہ صورتحال میں ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ شکایت کنندہ سست اور گواہ متحرک ہے.