کمزور، نااہل حکومت نے آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے، پی پی پی

ای میل

پیپلزپارٹی نے آئی ایم ایف سے معاہدے کو مسترد کردیا—فائل/فوٹو:ڈان
پیپلزپارٹی نے آئی ایم ایف سے معاہدے کو مسترد کردیا—فائل/فوٹو:ڈان

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی جانب سے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے 6 ارب ڈالر کے قرض کے معاہدے کو پارلیمنٹ میں لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمزور اور نااہل حکومت نے آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ آئی ایم ایف اپنی ہی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کر کے واپس چلی گئی ہے لیکن معاہدے پر پارلیمان میں بریفنگ دی جائے اور بتایا جائے کہ وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام ان مذاکرات میں شامل کیوں نہیں تھے۔

معاہدے پر اعتراض کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بتایا جائے کہ کن شرائط پر ملک اور اداروں کو گروی رکھا جارہا ہے، معاہدے سے لگتا ہے مہنگائی کی سونامی آنے والی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کہیں مہنگائی کی یہ سونامی حکومت کو نہ لے ڈوبے، ابھی سے بجلی مہنگی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ حکومت ترقیاتی و فلاحی منصوبوں کو بند کرنے جا رہی ہے لیکن حکومت یاد رکھے کہ عام آدمی مزید مہنگائی برداشت نہیں کر سکتا۔

شیری رحمٰن نے کہا کہ اس معاہدے کے بعد روپے کی قدر مزید کم ہوگی اس لیے ہم اس عوام دشمن معاہدے کو نہیں مانتے۔

مزید پڑھیں:آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر قرض کا معاہدہ طے پاگیا، مشیر خزانہ

پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو پارلیمان میں آکر آئی ایم ایف سے معاہدے کی شرائط بتانا ہوں گی کیونکہ عوام کو اندھیرے میں رکھ کر آئی ایم ایف سے بالا ہی بالا ڈیل کرلی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزارت خزانہ کے اہم افسران کو بھی آئی ایم ایف سے ہونے والے مذاکرات سے لاتعلق رکھا گیا۔

نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ اہم ریاستی اداروں پر آئی ایم ایف کے تنخواہ داروں کو مسلط کردیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف کے قرض کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اقساط میں 6 ارب ڈالر سے بجٹ اور کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ کیسے پورا ہوگا، سچ تو یہ ہے کہ پاکستان میں آئی ایم ایف نے آئی ایم ایف سے ڈیل کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قرضہ لینے پر خودکشی کو ترجیح دینے والوں کے لیے آئی ایم ایف سے ڈیل شرم ناک ہے، جب آئی ایم ایف سے ڈیل ناگزیر تھی تو گزشتہ 9 ماہ میں پس وپیش کرکے خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایف پروگرام: حکومت بجلی، گیس مہنگی کرنے اور نئے ٹیکس لگانے کیلئے تیار

پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تبدیلی کا سونامی لانے والے مہنگائی کا سونامی لاچکے ہیں، عمران خان مہنگائی کا سونامی لاکر عوام کا خون نچوڑنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پی ٹی آئی نہیں بلکہ پی ٹی آئی ایم ایف کی حکومت ہے، جس کا سربراہ آئی ایم ایف خان ہے۔

ماضی میں آئی ایم ایف سے ہونے والے معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے باوجود پی پی پی نے تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا تھا لیکن اس کمزور اور نااہل حکومت نے آئی ایم ایف کے آگے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔

نفیسہ شاہ نے کہا کہ آئی ایم ایف سے ڈیل کے بعد حکومت اب سینکڑوں ارب روپے کے ٹیکس لگانے کی تیاری کررہی ہے لیکن پارلیمان کو بائی پاس کرکے آئی ایم ایف سے ڈیل کو ہم مسترد کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ، ریونیو اور معاشی امور ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر قرض کا معاہدہ طے پانے کا اعلان کردیا تھا جس کے بعد آئی ایم ایف نے بھی اعلامیہ جاری کیا تھا۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف 3 برسوں کےدوران 6 ارب ڈالر فراہم کرے گا جس کے ساتھ ورلڈ بینک اور ایشائی ترقیاتی بینک جیسے مالیاتی اداروں سے بھی 2 ارب سے 3 ارب ڈالر اضافی ملیں گے۔