پنجاب: لاپتہ بچے کی لاش نہر سے برآمد

اپ ڈیٹ 16 مئ 2019

ای میل

10 سالہ بچہ 11 مئی سے لاپتہ تھا جس کے اغوا کا مقدمہ کلیانہ پولیس اسٹیشن میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا تھا — فائل فوٹو/ڈان ڈاٹ کام
10 سالہ بچہ 11 مئی سے لاپتہ تھا جس کے اغوا کا مقدمہ کلیانہ پولیس اسٹیشن میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا تھا — فائل فوٹو/ڈان ڈاٹ کام

ساہیوال: صوبہ پنجاب کی تحصیل چیچہ وطنی کے گاؤں سے لاپتہ بچے کی لاش کسووال کے قریب پاکپتن نہر سے برآمد ہوئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 10 سالہ بچہ 11 مئی سے لاپتہ تھا جس کے اغوا کا مقدمہ کلیانہ پولیس اسٹیشن میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا تھا۔

دوسری جانب بچے کے والدین کوخدشہ ہے قتل سے پہلے ان کے بچے پر بدترین تشدد کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے عرصے میں کلیانہ پولیس اسٹیشن کی حدود میں یہ بچے کے اغوا اور قتل کا تیسرا کیس ہے۔

مزید پڑھیں: نیو کراچی سے اغوا ہونے والا بچہ لیاقت آباد سے برآمد

4 روز قبل گورنمنٹ ایلیمنٹری اسکول کا چوتھی جماعت کا طالب علم 10 سالہ محمد شیر خان پکا سدھار گاؤں سے لاپتہ ہوا تھا۔

بچے کے والدین اور گاؤں کے بزرگوں نے اسے تلاش کرنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہے بعد ازاں بچے کے والد کی شکایت پر کلیانہ پولیس نامعلوم افراد کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا تھا۔

پولیس نے بچے کو ڈھونڈنے کی کوشش کی، تحقیقات کیں لیکن کوئی سراغ نہ ڈھونڈ سکی۔

گزشتہ روز محمد شیر خان کی بنا سر کی لاش پاک پتن نہر سے ملی، کچھ راہ گیروں نے پولیس کا اطلاع دی کہ ایک بچے کی لاش نہر میں تیر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد: 5 سالہ بچے کا اغوا اور تشدد

بعدازاں لاش کی شناخت محمد شیر خان کے نام سے ہوئی۔

پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ بچے کا سر اور ایک ٹانگ غائب تھی، اس کے والد کو لگتا ہے کہ بیٹے کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر جلایا گیا۔

تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے بعد بچے سے جنسی زیادتی کی تصدیق کی جائے گی۔