اوگرا کی یکم جولائی سے گیس مہنگی کرنے کی سفارش

ای میل

قیمتوں میں اضافے کی حتمی منظوری وفاقی حکومت دے گی — فائل فوٹو
قیمتوں میں اضافے کی حتمی منظوری وفاقی حکومت دے گی — فائل فوٹو

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے یکم جولائی سے گیس اوسطاً 47 فیصد تک مہنگی کرنے کی سفارش کر دی۔

اوگرا نے سوئی ناردرن گیس صارفین کے لیے گیس کی اوسط قیمت میں 47 فیصد جبکہ سوئی سدرن صارفین کے لیے 28 فیصد اضافے کی سفارش کی ہے۔

اوگرا کی جانب سے سوئی ناردرن گیس صارفین کے لیے فی یونٹ گیس 237 روپے اور سوئی سدرن گیس صارفین کے لیے فی یونٹ گیس 160 روپے مہنگی کرنے کی منظوری دی گئی۔

سرکاری دستاویز کے مطابق گھریلو صارفین کے ابتدائی دو سلیبز کے لیے 65 فیصد، تیسرے سلیب کے لیے 43 فیصد، چوتھے سلیب کے لیے 50 فیصد جبکہ پانچویں اور چھٹے کے لیے گیس 25 سے 47 فیصد تک مہنگی کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

قیمتوں میں اضافے کی حتمی منظوری وفاقی حکومت دے گی۔

یہ بھی پڑھیں: گیس کمپنیاں سرمایہ کاری میں حائل رکاوٹوں سے پریشان

یاد رہے کہ رواں سال مارچ میں گیس کمپنیوں کی جانب سے آئندہ مالی سال کے لیے گیس یوٹیلیٹیز کی آمدن کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے گیس کی قیمتوں میں 145فیصد تک اضافے کا مطالبہ سامنے آیا تھا۔

سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹیڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹیڈ نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کے لیے درخواست دائر کی تھی اور یہ اقدام ایک ایسے موقع پر کیا گیا جب اکتوبر 2018 میں گیس کی قیمتوں میں 35 فیصد اضافے کے سبب تحریک انصاف کی حکومت کو شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔

اوگرا کے بیان میں کہا گیا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں خدمات انجام دینے والی سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹیڈ نے مالی سال 20-2019 کے لیے یکم جولائی سے 144 فیصد اضافے کی تجویز پیش کرتے ہوئے 723 روپے اضافے کے ساتھ قیمت ایک ہزار 224 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کرنے کی تجویز دی ہے۔

مزید پڑھیں: ملک میں گیس بحران کی وجوہات

ریگولیٹر کا کہنا تھا کہ سوئی ناردرن گیس کمپنی نے 19مارچ کو نظرثانی شدہ درخواست دائر کی جس میں اپنے قدرتی گیس کے کاروبار میں 722.51 روہے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافے کی درخواست کی گئی جو یکم جولائی 2019 سے نافذ العمل ہو گی۔

دوسری جانب سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹیڈ نے موجودہ قیمت 591.67 فی یونٹ میں 106.54روپے اضافے کا مطالبہ کیا جس سے فی یونٹ قیمت 698.21 ہونے کا امکان تھا۔