کراچی کے قریب سمندر سے تیل و گیس کے ذخائر نہ مل سکے

ای میل

ڈرلنگ پر 15 ارب روپے اخراجات کا تخمینہ ہے، حکام پیٹرولیم ڈویژن — فائل فوٹو
ڈرلنگ پر 15 ارب روپے اخراجات کا تخمینہ ہے، حکام پیٹرولیم ڈویژن — فائل فوٹو

پیٹرولیم ڈویژن کے حکام کا کہنا ہے کہ کراچی کے قریب سمندر سے تیل و گیس کے ذخائر نہ مل سکے جس کے بعد کیکڑا ون میں ڈرلنگ کا کام ترک کر دیا گیا ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے کہا کہ گہرے سمندر میں کیکڑا ون کے مقام پر 5 ہزار 500 میٹر سے زائد ڈرلنگ کی گئی، تاہم تیل و گیس کے ذخائر نہ مل سکے۔

حکام نے کہا کہ تیل و گیس کے ذخائر نہ ملنے کے بعد کیکڑا ون میں ڈرلنگ کا کام ترک کر دیا گیا ہے۔

حکام نے بتایا کہ ڈرلنگ پر 15 ارب روپے اخراجات کا تخمینہ ہے اور ایگزون موبل، ای این آئی، پی پی ایل اور او جی ڈی سی ایل پر مشتمل کنسورشیم تیل و گیس کی تلاش پر کام کر رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ میں گیس اور تیل کے نئے ذخائر دریافت

واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں کیکڑا ون بلاک میں تیل و گیس کی تلاش کا عمل شروع کیا گیا تھا۔

ہفتہ کے روز ہی پشاور میں شوکت خانم کے لیے فنڈ ریزنگ کی تقریب سے خطاب کے دوران عمران خان نے کہا تھا کہ قوم دعا کرے کہ کراچی کے قریب سمندر میں گیس کا بڑا ذخیرہ برآمد ہوجائے، اگلے ہفتے تک گیس کے ذخائر ملنے کے امکانات ہیں۔

خیال رہے ایگزون موبل تقریباً ایک دہائی بعد گزشتہ برس ہونے والے اُس سروے کے بعد پاکستان میں واپس آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی سمندر میں تیل کا بہت بڑا ذخیرہ ہوسکتا ہے۔