گیند ایران کے کورٹ میں ہے وہ اپنی قسمت کا فیصلہ کرلے، سعودی عرب

اپ ڈیٹ 19 مئ 2019

ای میل

عاد؛ الجبیر کے مطابق سعودی عرب خطے میں جنگ نہیں چاہتا — فائل فوٹو/ اے ایف پی
عاد؛ الجبیر کے مطابق سعودی عرب خطے میں جنگ نہیں چاہتا — فائل فوٹو/ اے ایف پی

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ہمارا ملک جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور طریقے سے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

سعودی عرب کے حکام کی جانب سے یہ اعلان ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب گزشتہ ہفتے ملک کی تیل کمپنی پر ڈرون حملے اور متحدہ عرب امارات کے ساحل پر تیل بردار جہازوں کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا گیا تھا اور ان حملوں کو ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کی کڑی قرار دیا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ ریاض نے تہران کو مذکورہ حملوں کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا، جس کی ذمہ داری یمن کے حوثی قبائل نے قبول کی تھی۔

مزید پڑھیں: ایران نے خطے میں نئی جنگ چھڑ جانے کے امکان کو مسترد کردیا

تاہم ایران نے ان الزامات کی تردید کی تھی جن پر الزام تھاکہ حملے واشنگٹن کی جانب سے ایران پر لگائی جانے والی معاشی پابندیوں اور اس کے فوری بعد خطے میں امریکی فورسز کی موجودگی کے تناظر میں کیے گئے تھے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے وزیر برائے خارجہ امور عادل الجبیر نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 'سعودی عرب خطے میں جنگ نہیں چاہتا'۔

انہوں نے کہا کہ 'اس جنگ کو روکنے کے لیے جو کوششیں ممکن ہوئی کی جائیں گی لیکن اسی دوران اگر دوسری جانب سے جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا جواب بھر پور انداز میں اور بھرپور طاقت سے دیا جائے گا'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ہم خطے میں امن و استحکام چاہتے ہیں لیکن ہم ایرانی حملے کے جواب میں ہاتھ پر ہاتھ دہرے بیٹھے نہیں رہیں گے'۔

یہ بھی پڑھیں: 'یو اے ای میں تخریب کاری کا نشانہ بننے والے 2 جہاز سعودی عرب کے ہیں'

انہوں نے کہا کہ 'گیند اب ایران کے کورٹ میں ہے اور یہ اب ایران پر منحصر ہے کہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ کرے'۔

سعودی فرماں روا نے حملوں کے بعد کی صورت حال پر تبادلہ خیال کے لیے عرب ریاستوں کا اجلاس طلب کرلیا— فائل فوٹو/اے ایف پی
سعودی فرماں روا نے حملوں کے بعد کی صورت حال پر تبادلہ خیال کے لیے عرب ریاستوں کا اجلاس طلب کرلیا— فائل فوٹو/اے ایف پی

ہنگامی اجلاس طلب، عرب رہنماؤں کو شرکت کی دعوت

قبل ازیں سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان نے خلیجی اور عرب رہنماؤں کو 30 مئی کو مکہ مکرمہ میں طلب کیے گئے ہنگامی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی جس میں حملے کے بعد کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے ایک جاری بیان میں کہا کہ 'موجودہ صورت حال میں یہ ضروری ہے کہ عرب اور خلیجی ممالک کا مشترکہ موقف سامنے آئے'۔

یاد رہے کہ سعودی عرب کے سب سے اہم اتحادی تصور کیے جانے والے متحدہ عرب امارات نے ان کے ساحل پر ہونے والے حملوں کا ذمہ دار تاحال کسی کو قرار نہیں دیا۔

مزید پڑھیں: سعودی تیل کمپنی آرامکو پر ڈرون حملہ

رپورٹ میں کہا گیا کہ یو اے ای کے ساحلی علاقے میں تیل بردار جہازوں پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری فی الحال کسی نے بھی قبول نہیں کی ہے تاہم امریکی حکومت کے ذرائع کا ماننا ہے کہ گزشتہ ہفتے ایران نے حوثی قبائل اور عراق میں موجود مسلح گروہ کو مذکورہ حملے کے لیے اُکسایا تھا۔

گزشتہ روز ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے خطے میں نئی جنگ چھڑ جانے کے امکان کو مسترد کیا تھا۔

جواد ظریف نے کہا تھا کہ ’ایران جنگ کی مخالفت کرتا ہے اور کوئی بھی یہ گمان نہیں کر سکتا کہ تہران پر حملہ ہوسکتا ہے‘۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ جنگ نہیں ہوگی اور نہ ہی ہم جنگ کے حق میں ہیں‘۔