سلمان شہباز نے ملازمین کے بینک اکاؤنٹس سے منی لانڈرنگ کی، نیب

اپ ڈیٹ 22 مئ 2019

ای میل

عدالت نے حمزہ شہباز کی ضمانت میں 28 مئی تک توسیع کردی—فائل فوٹو: ڈان نیوز
عدالت نے حمزہ شہباز کی ضمانت میں 28 مئی تک توسیع کردی—فائل فوٹو: ڈان نیوز

لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز کے خلاف تین کرپشن کیسز میں ان کی عبوری صمانت میں توسیع کردی۔

جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی۔

مزیدپڑھیں: رمضان شوگر ملز ریفرنس: شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد

قومی احتساب بیورو (نیب) کے پراسیکیورٹر نے عدالت کو بتایا کہ بیورو حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے تمام انتظامات کرچکا تھا۔

حمزہ شہباز کے قونصل نے دلائل دیئے کہ نیب نے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کی رپورٹ فراہم نہیں کی اور عدالت پر زور دیا کہ بیورو دستاویزات حوالے کی جائیں۔

جس پر نیب پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف ایم یو رپورٹ خفیہ دستاویزات ہیں اور انہیں حمزہ شہباز کے حوالے نہیں کیے جاسکتا۔

خیال رہے کہ حمزہ شہباز پر آمدن سے زائد اثاثے رکھنے، رمضان شوگر ملز اور پنجاب صاف پانی کمپنی میں مبینہ کرپشن کرنے کا الزام ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیب کا حمزہ شہباز کے گھر کا کئی گھنٹے تک محاصرہ، گرفتاری کے بغیر واپس روانہ

بینچ نے نیب پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ وہ حمزہ شہباز کے خلاف دائر مقدمات کے پس منظر کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کرے۔

جس پر پراسیکیوٹر نے بینچ کو بتایا کہ حمزہ شہباز، ان کے بھائی سلمان اور والد شہباز شریف نے غیر واضح ذرائع سے آمدن سے زائد اثاثے جمع کیے۔

نیب نے بتایا کہ سلمان کے فرنٹ مین نے سلمان کے ہی ملازمین کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے منی لانڈرنگ کی۔

نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو مزید بتایا کہ محمد مشتاق عرف چینی، جو رمضان شوگرملز کا مینجر تھا اور انہیں گزشتہ ماہ پی آئی اے فلائٹ سے اتار کر گرفتار کیا گیا، نے انکشاف کیا کہ سلمان اپنے ملازمین کے نام پر بینک اکاؤنٹ کھولتا تھا۔

مزیدپڑھیں: رمضان شوگر ملز ریفرنس: شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی

نیب نے کہا کہ حمزہ شہباز منی لانڈرنگ میں حصہ دار تھے۔

اس دوران حمزہ شہباز کے وکیل نے ایف ایم یو رپورٹ پیش کرنے پر زور دیا اور کہا کہ ’رپورٹ ہی مقدمے کی بنیاد‘ ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کے پاس منی لانڈرنگ مقدمات کی تفتیش کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

جس پر نیب کے پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ نیب اسی طرح کے مقدمات کی تحقیقات کررہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نیب نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف نیا ریفرنس دائر کردیا

حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ رکن قومی اسمبلی مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کیے جا سکتے۔

بعد ازاں عدالت نے حمزہ شہباز کی ضمانت میں 28 مئی تک توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔