امریکا کو اپنے محفوظ ہونے کی امید نہیں رکھنی چاہیے،ایرانی وزیر خارجہ

اپ ڈیٹ 11 جون 2019

ای میل

ایرانی وزیر خارجہ اپنے جرمن ہم منصب سے ملاقات کر رہے ہیں — فوٹو: اے پی
ایرانی وزیر خارجہ اپنے جرمن ہم منصب سے ملاقات کر رہے ہیں — فوٹو: اے پی

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ تہران کے خلاف معاشی جنگ کے آغاز کے بعد خود کے محفوظ ہونے کی امید نہ رکھے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ 'ڈونلڈ ٹرمپ نے خود ایران کے خلاف معاشی جنگ کا اعلان کیا ہے اور اس خطے میں کشیدگی کم کرنے کا واحد حل معاشی جنگ کا خاتمہ ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جو بھی ہم سے جنگ کا آغاز کرے گا وہ اس کا اختتام کرنے والا نہیں ہوگا'۔

مزید پڑھیں: یورپ معاشی تعلقات بحال کرے یا کارروائی کیلئے تیار رہے، ایران

واضح رہے کہ جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایران کے دورے پر موجود ہیں۔

اپنے دورے کے دوران انہوں نے کہا کہ جرمنی اور دیگر یورپی ممالک جوہری معاہدے کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے مطابق ایران یورینیم کی محدود افزائش کا پابند تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتے مگر ہم معاہدے کو ناکام ہونے سے روکنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں'۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال ایران سے کیے جانے والے جوہری معاہدے سے خود کو علیحدہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کردی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکی جوہری معاہدہ ختم، خام تیل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور مشرق وسطیٰ میں ایران کے متنازع کردار کے حل کے بغیر 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے پر تنقید کی تھی، جس پر اس وقت کے امریکی صدر باراک اومابا نے دستخط کیے تھے۔

اس معاہدے میں یورپی ممالک، فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے بھی دستخط کیے تھے، جنہوں نے بعد ازاں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں کارروائیوں کے حوالے سے امریکی خدشات کی حمایت کی تھی۔

تاہم یورپی ممالک نے ایران کے جوہری معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے ایران کے جوہری پروگرام کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی اور اس کے علاوہ یہ مستقبل کی بات چیت کے لیے بھی اہم ہے۔

گزشتہ ماہ ایران نے جوہری معاہدے کے تحت کیے گئے متعدد وعدوں پر عمل درآمد ترک کردیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اگر یورپ نے تہران کو حالیہ امریکی پابندیوں کے خلاف مدد فراہم نہ کی تو آئندہ 60 روز میں وہ تمام وعدوں پر عمل درآمد روک دے گا۔