ایران امریکی جوہری معاہدہ ختم، خام تیل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ

اپ ڈیٹ 10 مئ 2018

ای میل

لندن: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ منسوخ کرنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں 3 فیصد اضافہ ہو گیا۔

عالمی منڈی میں تیل کی قمیت ساڑھے تین برس میں بلند ترین سطح 76.75 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے دنیا میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے خلاف ‘بہت سخت’ پابندیاں لگانے کی دھکمی بھی دی۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا ایران کے جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان

ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے اتحادی ممالک کی تجاویز اور مشوروں کو رد کرتے ہوئے 8 مئی کو ایران کے ساتھ عالمی معاہدہ منسوخ کردیا جو 2015 میں اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما نے دیگر عالمی طاقتوں بشمول برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور امریکا کے مابین طے پایا تھا۔

خیال رہے کہ دو روز قبل ایران کے صدر حسن روحانی نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران کے ساتھ ہونے والے عالمی جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا تو عالمی طاقتوں سمیت امریکا کو اپنے فیصلے پر سخت پشیمانی ہو گی ‘جس کی مثال ماضی’ میں نہیں ملے گی۔

ایرانی صدر نے سرکاری ٹی وی پر خطاب میں واضح کیا تھا کہ ‘اگر امریکا جوہری معاہدے سے خود کو الگ کرتا ہے تو دنیا دیکھے گی کہ امریکا کو اتنی شرمندگی اٹھانا پڑے گی جس کی مثال تاریخ میں نہیں مل سکتی’۔

مزید پڑھیں: ‘ایران سے جوہری معاہدہ ختم کرنے پر امریکا کو تاریخی پشیمانی ہوگی‘

امریکی فیصلے کے بعد مشرق وسطیٰ میں مزید تنازعات جنم لے سکتے ہیں اور ساتھ ہی عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔

برینٹ خام تیل کی قیمت نومبر 2014 کے بعد سے سب سے زیادہ 76.75 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی دوسری جانب بینچ مارک کا نٹریکٹ فی بیرل 1.90 ڈالر اور زیادہ سے زیادہ 2.5 فیصد تھا۔

واضح رہے کہ چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور شنگائی مستقبل میں تیل کی فی بیرل قیمت میں مزید اضافے کو اپنے لیے خطرہ محسوس کررہا ہے۔

یہ پڑھیں: ایران کا جوہری پروگرام خفیہ طور پر جاری ہے، اسرائیل

ٹریفیکٹا انرجی کنسلٹنسی کے ڈائریکٹر سوکرت ویجے کاررا نے پیش گوئی کی کہ ‘ایشیاء اور یورپ ایرانی تیل کے بڑے درآمدی کنندہ گان میں سے ہیں اور امریکی فیصلے کے بعد رواں برس ترسیل میں کمی واقع ہو گئی اور 2019 کے عشرے میں مذکورہ ممالک واشنگٹن سے مخالفت مول لینے کے بجائے متبادل راستہ اختیار کریں گے’۔

خیال رہے کہ جوہری معاہدے کے تحت ایران پر پابندی ختم ہونے کی وجہ سے تہران 2016 میں تیل کا سب سے بڑا برآمدی ملک بن کر ابھرا تھا صرف اپریل میں اس نے 2.6 ملین بیرل یومیہ تیل برآمد کیا۔