ملزمان کی بریت کے خلاف مختاراں مائی کی نظر ثانی درخواست خارج

اپ ڈیٹ 13 جون 2019

ای میل

عدالت کے مطابق درخواست میں اٹھائے گئے نکات کو کسی دوسرے کیس میں زیر غور لائیں گے — فائل فوٹو/ پی پی آئی
عدالت کے مطابق درخواست میں اٹھائے گئے نکات کو کسی دوسرے کیس میں زیر غور لائیں گے — فائل فوٹو/ پی پی آئی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے مختاراں مائی گینگ ریپ کیس میں ملزمان کی بریت کے خلاف دائر نظرثانی درخواست خارج کر دی۔

جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیئے کہ درخواست میں اٹھائے گئے نکات کو کسی دوسرے کیس میں زیر غور لائیں گے۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ اپیل میں اٹھائے جانے والے نکات نظر ثانی میں شامل نہیں کیے جا سکتے اور نظرثانی میں صرف فیصلے کی غلطی کا بتایا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ میں مختاراں مائی کی نظرثانی درخواست سماعت کیلئے مقرر

انہوں نے مزید ریمارکس دیئے کہ آپ کیس کو مختصر کریں ورنہ یہ 10 سال یونہی پڑا رہے گا۔

جس پر وکیل اعتزاز احسن نے عدالت کو بتایا کہ فیصلے میں لکھا گیا کہ مختاراں مائی کے جسم پر زخم کا کوئی نشان نہیں لیکن میں ریکارڈ سے بتاؤں گا کہ جسم پر زخم کے نشان تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آیا جرح میں ملزم کا اعتراف دفاع کو متاثر کرے گا، جرم دور دراز علاقے میں ہوا۔

جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ کیس میں معروضات لکھوا دیں کسی دوسرے کیس میں ان نکات کا جائزہ لیں گے۔

جس کے بعد عدالت عظمیٰ نے مختاراں مائی کی جانب سے ملزمان کی بریت کے خلاف دائر نظرثانی درخواست خارج کردی۔

یہ بھی پڑھیں: مختاراں مائی زیادتی کیس: عدالت کی ملزمان کو وکیل کرنے کیلئے مہلت

2 مارچ 2019 کو سپریم کورٹ نے مختاراں مائی کی نظرثانی درخواست پر ملزمان کو وکیل کرنے کے لیے مہلت دی تھی۔

اس سے قبل 2 مارچ کو مختاراں مائی کی پنچایت کے حکم پر زیادتی کے معاملے پر نظرثانی درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھی۔

مختاراں مائی گینگ ریپ کیس

واضح رہے کہ جون 2002 میں مختاراں مائی کو، ان کے چھوٹے بھائی کے مخالف قبیلے کی خاتون سے مبینہ ناجائز تعلقات رکھنے پر پنچایت کے حکم پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

انہوں نے 14 ملزمان پر زیادتی میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا اور انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اسی سال اگست میں 6 ملزمان کو سزائے موت سنائی تھی، جن میں سے 4 ریپ میں ملوث اور 2 پنچایت کا حصہ تھے جبکہ دیگر 8 افراد کو بری کردیا گیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بینچ نے 2005 میں 6 میں سے 5 ملزمان کو نظرثانی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے بری کردیا تھا جبکہ ملزم عبدالخالق کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے مختاراں مائی کیس کے ثبوت طلب کرلیے

پانچوں ملزمان کی بریت کے خلاف مختاراں مائی نے سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی تھیں جس پر سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپریل 2011 میں اپیلیں مسترد کر دی تھیں۔

مختاراں مائی نے اسی سال مئی میں سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواستیں دائر کی تھیں جس پر 8 سال بعد 6 مارچ کو سماعت ہوئی۔

اپنی نظرثانی کی درخواست میں مختاراں مائی نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے دیا گیا یہ فیصلہ انصاف کی بہت بڑی ناکامی تھی۔