جنوبی پنجاب میں پی ٹی آئی کا الگ صوبے کی سطح پر تنظیم قائم کرنے کا اعلان

اپ ڈیٹ 15 جون 2019

ای میل

پی ٹی آئی کے چیف آرگنائزر سیف اللہ خان نیازی کی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات — فوٹو: فہد چوہدری
پی ٹی آئی کے چیف آرگنائزر سیف اللہ خان نیازی کی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات — فوٹو: فہد چوہدری

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جنوبی پنجاب کے لیے علیحدہ صوبے کی سطح پر تنظیم قائم کرنے کا اعلان کردیا۔

یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے چیف آرگنائزر سیف اللہ خان نیازی اور وزیر اعظم عمران خان کے درمیان ہونے والی خصوصی ملاقات میں کیا گیا۔

تحریک انصاف کے مرکزی شعبہ میڈیا کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق سیف اللہ خان نیازی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان تحریک انصاف، جنوبی پنجاب کے عوام کے سیاسی و انتظامی حقوق کے لیے خصوصی طور پر متحرک ہے‘۔

مزید پڑھیں: جنوبی پنجاب صوبے کیلئے حکومت کی پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) سے مدد کی درخواست

ان کا کہنا تھا کہ ’جنوبی پنجاب کے لیے صوبے کی سطح پر تنظیم قائم کرنے کے لیے وزیراعظم عمران خان سے ہدایات لے لی ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’تحریک انصاف کی یہ تنظیم جنوبی پنجاب کے عوام کی بہبود کا ایجنڈا آگے بڑھائے گی، عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں جنوبی پنجاب کے لیے صوبے کی سطح کی تنظیم سازی کریں گے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’تحریک انصاف ملک کے دیگر حصوں میں تنظیم سازی کا عمل بھی جلد مکمل کرلے گی‘۔

یہ بھی پڑھیں: صوبہ جنوبی پنجاب کا قیام: پیپلز پارٹی نے سینیٹ میں بل پیش کردیا

بیان کے مطابق ملاقات میں تحریک انصاف کی تنظیمِ نو کے حوالے سے اہم امور سمیت ملکی سیاسی صورتحال کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔

ملاقات میں سیف اللہ خان نیازی نے ملک بھر میں تنظیم سازی کے حوالے سے کیے جانے والے ہوم ورک پر وزیراعظم کو بریفنگ دی۔

واضح رہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کا قیام کے لیے قومی اسمبلی و سینیٹ میں بلز پیش کیے جاچکے ہیں۔

گزشتہ ماہ کے آغاز میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لیے بل سینیٹ میں پیش کیا تھا جس میں ان نکات کو بھی شامل کیا گیا تھا جنہیں 2013 میں ایون سے منظور کیا گیا تھا۔

دوسری جانب حکمراں جماعت تحریک انصاف نے صوبے کے قیام کے لیے اپوزیشن جماعتوں سے مدد کرنے کی درخواست کی تھی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے 3 اراکین اسمبلی نے جنوبی صوبہ پنجاب سے متعلق آئینی ترمیمی بل پیش کیا جسے قومی اسمبلی میں کثرت رائے سے منظور کیا گیا تھا، تاہم صوبے کے لیے آئین کے آٹیکل 1، 51، 59، 106، 198 اور 218 میں ترمیم کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کے لیے ایوان میں 2 تہائی اکثریت ہونی ضروری ہے اور حکومت کے پاس 2 تہائی اکثریت موجود نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ صوبہ جنوبی پنجاب میں ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان ڈویژن جبکہ میانوالی اور بھکر کے اضلاع شامل ہوں گے۔