لاہور ہائیکورٹ: خواجہ برادران کی ضمانت کی درخواستیں خارج

اپ ڈیٹ 18 جون 2019

ای میل

خواجہ برادران کے خلاف نیب ریفرنس دائر ہوچکا ہے—فائل فوٹو: ڈان نیوز
خواجہ برادران کے خلاف نیب ریفرنس دائر ہوچکا ہے—فائل فوٹو: ڈان نیوز

لاہور ہائی کورٹ نے خواجہ برادران سعد رفیق اور سلمان رفیق کی ضمانت سے متعلق درخواستیں خارج کردیں۔

عدالت عالیہ میں جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر نیب کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 1997 میں ایک پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی بنائی گئی جس نے ایئر ایونیو سوسائٹی بنائی، یہ کمپنی قیصر امین بٹ اور سعید رفیق کے اہل خانہ کی ملکیت ہے۔

مزید پڑھیں: خواجہ برادران کے خلاف ریفرنس دائر، کروڑوں روپے کی کرپشن کا الزام

انہوں نے بتایا کہ 700 کنال زمین لی گئی، سال 2000 میں اسے فروخت کردیا گیا جبکہ 2006 میں ڈیبونی نام سے ایک کمپنی بنا لی گئی اور خواجہ سعد رفیق کے نام پر کروڑوں روپے آئے۔

وکیل نے عدالت میں بتایا کہ نیب کی وجہ سے یہ لوگ متحرک ہوگئے اور اس کمپنی کو ختم کرکے ایک نئی لمیٹڈ کمپنی ایئر ایونیو بنالی جبکہ خواجہ خاندان نیب کی وجہ سے پیچھے ہٹ گیا۔

انہوں نے بتایا کہ خواجہ برادران کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی انکوائری بند کردی گئی اور یہ انکوائری اس لیے بند کی کیونکہ یہ خوش قسمت ہیں کہ ان کے پرائز بانڈ نکل آئے۔

اس پر جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ پرائز بانڈ کا اس سے کیا تعلق ہے، جس پر نیب وکیل نے بتایا کہ خواجہ برادران کے 2007 اپریل میں 4 کروڑ 90 لاکھ روپے کے بانڈز نکلے تو آمدن سے زائد اثاثے ثابت نہیں ہو سکتے تھے، اس معاملے کے بعد خواجہ برادران نے پیراگون بنالی۔

بعد ازاں عدالت کے دو رکنی بینچ نے دلائل مکمل ہونے پر ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا، جسے کچھ دیر بعد سناتے ہوئے انہیں خارج کردیا گیا۔

خواجہ برادران کی گرفتاری و ریمانڈ

واضح رہے کہ نیب نے پیراگون ہاؤسنگ سائٹی میں بڑے پیمانے پر خورد برد کی تحقیقات کا آغاز گزشتہ برس نومبر میں کیا تھا، اس حوالے سے کہا گیا تھا کہ مذکورہ سوسائٹی خواجہ سعد رفیق کی ہے جبکہ انہوں نے عدالت عظمیٰ میں سوسائٹی سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

پیراگون سٹی کی ذیلی کمپنی بسم اللہ انجینئرنگ کے مالک شاہد شفیق کو جعلی دستاویزات کی بنیاد پر آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کا ٹھیکہ لینے کے الزام میں 24 فروری کو نیب نے گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل: نیب نے خواجہ برادران کو گرفتار کرلیا

اس کے علاوہ یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ بسم اللہ انجینئرنگ کمپنی کی نااہلی کی وجہ سے حکومت کو 100 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

11 دسمبر 2018 کو نیب نے پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل میں خواجہ برادران، خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق، کو ضمانت مسترد ہونے پر لاہور ہائیکورٹ سے حراست میں لے لیا تھا، خواجہ برداران نے پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل میں قبل ازگرفتاری ضمانت میں متعدد مرتبہ توسیع حاصل کی تھی۔

نیب نے دوسرے ہی روز خواجہ برادران کو لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کیا تھا، جہاں عدالت نے خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا، بعد ازاں اس میں متعدد مرتبہ توسیع کی گئی اور 2 فروری 2019 کو انہیں جیل بھیج دیا گیا۔