حد سے زیادہ اپیل کرنے پر کوہلی پر جرمانہ عائد

ای میل

کوہلی امپائر کی جانب سے آؤٹ نہ دیے جانے کے باوجود مستقل اپیل کرتے رہے— فوٹو: اے ایف پی
کوہلی امپائر کی جانب سے آؤٹ نہ دیے جانے کے باوجود مستقل اپیل کرتے رہے— فوٹو: اے ایف پی

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) نے حد سے زیادہ اپیل کرنے پر بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی پر میچ فیس 25فیصد جرمانہ عائد کردیا۔

بھارت اور افغانستان کے درمیان ہفتے کو کھیلے گئے میچ میں بھارت نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 11رنز سے کامیابی حاصل کی۔

مزید پڑھیں: کرکٹ پر بات کریں، گالیاں دینا مناسب نہیں، سرفراز

لیکن اس میچ میں حد سے زیادہ اپیل کرنا بھارتی ٹیم کے کپتان کو مہنگا پڑ گیا اور وہ اپنی 25فیصد میچ فیس سے محروم ہو گئے۔

جب افغانستان کی ٹیم بھارت کی جانب سے دیے گئے ہدف کا تعاقب کر رہی تھی تو اننگز کے 29ویں اوور میں انہوں نے جارحانہ انداز میں اپیل کی اور امپائر علیم ڈار کی جانب سے آؤٹ نہ دیے جانے کے باوجود مستقل اپیل کرتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں: محمد شامی ورلڈ کپ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے دسویں باؤلر

ویرات کوہلی 'حد سے زیادہ اپیل کرنے کے' آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار پائے جس کی وجہ سے ان پر جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی دے دیا گیا۔

بھارتی ٹیم کے کپتان نے میچ ریفری کرس براڈ کے سامنے اپین غلطی تسلیم کر لی جس کے بعد باقاعدہ سماعت کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

یہ 2016 میں ضابطہ اخلاق میں ترمیم کے بعد سے کوہلی کا دوسرا منفی پوائنٹ ہے جہاں اس سے قبل کوہلی کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر پہلا منفی پوائنٹ 15 جنوری 2018 میں جنوبی افریقہ کے خلاف پریٹوریا ٹیسٹ کے دوران ملا تھا۔

آئی سی سی کے قوانین کے مطابق ضابطہ اخلاق کی پہلی سطح کی خلاف ورزی پر کم از کم سرکاری طور پر سرزنش کرنا اور زیادہ سے زیادہ کھلاڑی پر میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ عائد کرنا اور ایک یا دو منفی پوائنٹ دینا شامل ہیں۔

واضح رہے کے ان قوانین کے مطابق جب کسی بھی کھلاڑی کے دو سال کے عرصے میں دو منفی پوائنٹ ہوتے ہیں تو اس پر ایک ٹیسٹ یا دو بین الاقوامی ایک روزہ میچ یا ٹی ٹوئنٹی میچ جو بھی پہلے آ جائیں، کھیلنے پر پابندی لگ جاتی ہے۔

اگر کسی کھلاڑی کے دو سال کے عرصے میں چار منفی پوائنٹس ہو جائیں تو کھلاڑی کو معطل کر کے کھیلنے پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے، منفی پوائنٹس کسی بھی کھلاڑی یا سپورٹ سٹاف کے نظم و ضبط کے ریکارڈ میں دو سال تک رہتے ہیں جس کے بعد انھیں ریکارڈ سے نکال دیا جاتا ہے۔