ایف بی آر نے تمباکو پر ایڈوانس ڈیوٹی بحال کردی

اپ ڈیٹ 25 جون 2019

ای میل

ایف ای ڈی میں اضافے نے منڈی والوں اور کسانوں کو برے طریقے سے متاثر کیا—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
ایف ای ڈی میں اضافے نے منڈی والوں اور کسانوں کو برے طریقے سے متاثر کیا—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تمباکو کاشت کرنے والے شعبے (گرین لیوز ٹریشنگ) یونٹس کے لیے 10 روپے کی ایڈوانس فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کو بحال کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کے چیئرمین سید شبر زیدی نے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے زرعی مصنوعات کو آگاہ کیا کہ بورڈ نے آئندہ مالی سال سے ڈیوٹی کو بڑھا کر 300 روپے کرنے کی تجویز دی تھی لیکن بہت سی کمیٹیوں کی سفارشات پر اس اقدام کو ملتوی کردیا گیا۔

حکومت کی جانب سے تمباکو کے شعبے میں ٹریک، ٹریس اور دستاویزی شکل دینے کے لیے ایف ای ڈی عائد کی گئی تھی تاہم مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

مزید پڑھیں: تمباکو نوشی سے صحت کے مسائل، پاکستان دنیا کے سر فہرست 15 ممالک شامل

اس سے قبل کمیٹی نے اعتراض اٹھایا تھا کہ ایف ای ڈی میں اضافے نے منڈی والوں اور کسانوں کو برے طریقے سے متاثر کیا اور انہیں اپنا کاروبار اور بڑی تعداد میں موجود فروخت نہ ہونے والے تمباکو کو ضائع کرنا پڑا۔

اگرچہ ایف ای ڈی کے ایڈجسٹ ایبل ہونے سے سیگریٹ مینوفکچررز پر لیوی سے پڑنے والا اثر نسبتاً نہ ہونے کے برابر تھا لیکن اس نے کسانوں کو متاثر کیا تھا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترمیم شدہ فنانس ایکٹ 2018 میں حکومت نے ایف ای ڈی کو 10 روپے سے بڑھا کر 300 روپے فی کلو کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: تمباکو نوشی چھوڑنے کے بعد دل کی صحت کب تک بہتر ہوتی ہے؟

جی ایل ٹی کی سطح پر ایف ای ڈی عائد کرنے سے تمباکو ڈیلرز، مڈل مین اور منڈی والوں کو تمباکو کی تجارت میں متحرک رہنے سے محروم کردیا تھا جبکہ ساتھ ہی کسانوں کی سودا کرنے کی طاقت کو بھی کمزور کردیا تھا۔

اس موقع پر اجلاس میں کپاس کے لیے کم سےکم معاون قیمت، زراعت ریسرچ کے لیے رقم مختص کرنے، زیتون کی کٹائی کو فروغ دینے، کھاد اور پولٹری کی ڈیوٹیز کےمعاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

خصوصی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زراعت ریسرچ کے لیے ایک ارب روپے مختص کرنے پر رضامند ہوگئے۔