افغان امن مذاکرات کے ساتویں مرحلے سے قبل طالبان کی میڈیا کو دھمکی

اپ ڈیٹ 25 جون 2019

ای میل

آزادی اظہار اور میڈیا اداروں پر حملے انسانی اور اسلامی اقدار کی خلاف ورزی ہے، افغانستان  — فائل فوٹو/اے ایف پی
آزادی اظہار اور میڈیا اداروں پر حملے انسانی اور اسلامی اقدار کی خلاف ورزی ہے، افغانستان — فائل فوٹو/اے ایف پی

امریکا اور افغانستان نے طالبان کی جانب سے افغان میڈیا کو 'طالبان مخالف بیانات' نشر کرنے پر حملے کا نشانہ بنانے کی دھمکی کی مذمت کی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق طالبان کی جانب سے ان کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں ملٹری کمیشن نے خبردار کیا تھا کہ ریڈیو اسٹیشنز، ٹی وی چینلز اور دیگر میڈیا اداروں کے پاس طالبان مخالف بیانات نشریات بند کرنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ جو ادارے ایسی نشریات جاری رکھیں گے، جو مغرب کی حمایت یافتہ افغان حکومت کی مدد کر رہے ہیں، انہیں حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی کے دفتر کی جانب سے طالبان کی دھمکی کی مذمت کی گئی جنہوں نے ماضی میں بھی میڈیا کے رپورٹرز اور ملازمین کو نشانہ بنایا تھا۔

اس حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ' آزادی اظہار اور میڈیا اداروں پر حملے انسانی اور اسلامی اقدار کی خلاف ورزی ہے'۔

مزید پڑھیں: افغان امن عمل: طالبان وفد کے چینی حکام سے مذاکرات

خیال رہے کہ طالبان کی جانب سے دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی حل ڈھونڈنے کے مقصد کے تحت امریکی حکام اور طالبان رہنما مذاکرات کے ساتویں مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں۔

افغان امن عمل پر مذاکرات کا اگلا دور دوحہ میں 29 جون سے شروع ہوگا۔

افغانستان میں امریکی سفیر جون باس نے کہا کہ طالبان کو افغان صحافیوں کو دھمکانا چھوڑ دینا چاہیے۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ 'صحافیوں یا شہریوں کے خلاف مزید تشدد سے افغانستان میں سیکیورٹی یا مواقع نہیں آئیں گے، نہ ہی اس سے طالبان کو اپنے سیاسی مقاصد تک پہنچنے میں مدد ملے گی'۔

میڈیا واچ ڈاگ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کے مطابق 2018 میں افغانستان صحافیوں کے لیے بدترین ملک تھا جہاں 13 صحافی قتل ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: طالبان اور امریکا کے مابین مذاکرات کے نئے دور کا آغاز

انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس افغانستان میں 16 صحافی قتل ہوئے۔

2014 سے افغانستان میں بین الاقوامی میڈیا کی موجودگی میں تیزی سے کمی آئی جس خلا کو مقامی میڈیا نے پُر کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کا کام مشکل ہوتا جارہا ہے۔

2016 میں طالبان کے خودکش بمبار نے افغانستان کے سب سے بڑے نجی چینل طلوع ٹی وی کے ملازمین کو لے جانے والی بس سے گاڑی ٹکرائی تھی جس کے نتیجے میں 7 صحافی ہلاک ہوئے تھے۔

اس حوالے سے طالبان نے کہا تھا کہ انہوں نے ملازمین کو قتل کیا کیونکہ طلوع ٹی وی پروپیگنڈا کی ذریعے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے افغانستان پر قبضے اور طالبان کے خلاف ان کی جنگ کی حمایت کر رہا تھا۔