ایغور حراستی کیمپ: اقوام متحدہ کو کھلا خط ’بہتان‘ ہے، چین

اپ ڈیٹ 11 جولائ 2019

ای میل

مراسلے پر آسٹریلیا، برطانیہ، جرمنی اور جاپان کے سفیروں نے بھی دستخط کیے — فائل فوٹو: ڈان نیوز
مراسلے پر آسٹریلیا، برطانیہ، جرمنی اور جاپان کے سفیروں نے بھی دستخط کیے — فائل فوٹو: ڈان نیوز

چین نے سنکیانگ صوبے میں مسلمان اقلیتوں سے متعلق تقریباً 22 ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کو ارسال کیے گئے خط کو 'بہتان' قرار دیا ہے۔

چین کے شمال مغربی خطے میں ایغور مسلمانوں کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: چین کی اقوام متحدہ کے حکام کو سنکیانگ کے دورے کی 'مشروط' دعوت

چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان زینگ شانگ نے روزمرہ پریس بریفنگ میں کہا کہ اقوام متحدہ کو خط ’چین کے خلاف حملہ، بہتان اور غیر ضروری الزامات‘ پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خط، انسانی حقوق کے مسائل عوامی سطح پر سیاست چمکانے کی کوشش ہے اور چین کے داخلی امور پر بے جا مداخلت ہے۔

مراسلے پر اقوام متحدہ کے لیے 22 ممالک کے سفیروں نے دستخط کیے جن میں آسٹریلیا، برطانیہ، جرمنی اور جاپان کے سفیر بھی شامل ہیں۔

مراسلے کے متن میں چین کے صوبے سنکیانگ میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کو حراستی کیمپوں میں قید کرنے سے متعلق ’مصدقہ رپورٹس‘ پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: چین میں یوغور مسلمانوں کو قید کیے جانے پر اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

خط میں مزید کہا گیا کہ ایغور مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر نگرانی کی جاری ہے اور انہیں مختلف پابندیوں میں بھی جکڑا جارہا ہے۔

مراسلے میں چین سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ سنکیانگ میں مسلمان اور دیگر مذہبی اقلیتوں کو حراستی کیمپ میں قید کرنے سے باز آئے اور انہیں آزادی کے ساتھ اپنے امور انجام دینے کا ماحول فراہم کرے۔

اقوام متحدہ کے آزاد پینل کا ماننا ہے کہ تقریباً ایک لاکھ ایغورز اور دیگر مسلم اقلیتوں کو حراستی کیمپوں میں نظر بند رکھا گیا ہے، جنہیں چین پیشہ ورانہ تعلیمی سینٹرز قرار دیتا ہے۔

چین نے دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کے خلاف جنگ کے نام پر ایغور مسلم اقلیت پر طویل عرصے سے سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چین: ‘ایغور اقلیت کو حراستی کیمپوں میں قید رکھنا خوفناک ہے‘

چین کی وزارت خارجہ بار بار یہ دعویٰ کرتی آئی ہے کہ وہ سنکیانگ کے دورے کے لیے غیر ملکی صحافیوں کے عہدیداران کو خوش آمدید کہے گی۔

تاہم خطے میں جانے والے صحافیوں کو کئی بار حراست میں لیا جاچکا ہے اور پولیس کی جانب سے انہیں ایغورز کے نظر بندی کیمپوں میں جانے سے روکنے کے اقدامات سامنے آئے ہیں۔