چین: ‘ایغور اقلیت کو حراستی کیمپوں میں قید رکھنا خوفناک ہے‘

اپ ڈیٹ 13 اگست 2018

ای میل

چین کی کمیونسٹ پارٹی کے اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایغور مسلم اقلیت کے خلاف دباؤ کے نتیجے میں سنکیانگ ’چین کا شام یا چین کا لیبیا‘بننے سے بچ گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس 'اے پی' کے مطابق اس ضمن میں گلوبل ٹائمز ایڈیٹرویل نے کہا کہ ’ایغور اقلیتوں کو حراستی کیمپوں میں قید کرنا خوفناک ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: چین: سنکیانگ میں روزے رکھنے پر پابندی

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے یوغور کے ساتھ رواں رکھے جانے والے حکام کے رویے پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ سخت گیر علیحدگی پسند مسلمانوں کے حملے کے نتیجے میں ایغور اور کزک مسلمان اقلیت سنکیانگ جانے پر مجبور ہوئے جنہیں جبری طور پر ’قید‘ کرلیا گیا۔

اخبار کی جانب سے براہ راست حراستی کیمپ کا ذکر نہیں کیا گیا۔

اس حوالے سے اخبار کا کہنا تھا کہ ’یہ عمل مغربی دنیا کی رائے سازی کے خلاف ہے جبکہ استحکام اور امن ہر حال میں بالا تر ہونا چاہیے‘۔

مزید پڑھیں: چین: مسلم علاقے میں سیکیورٹی کے نام پر ’ڈی این اے‘ منصوبہ

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ سنکیانگ کو غلاموں کی بستی میں بدل دیا گیا۔

واضح رہے کہ سنکیانگ کی آبادی 10 ملین کے قریب ہے جن میں سے زیادہ تر مسلمان اقلیت ایغور سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس خطے میں مسلمانوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑہیں ہوتی رہتی ہیں اور چین اپنے مغربی صوبے سنکیانگ میں کشیدگی کا ذمہ دار علیحدگی پسند گروپ کو ٹھہراتا ہے۔

جلاوطن گروپ ورلڈ ایغور کانگریس کے ایک عہدیدار نے ان پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 'چین کو لگتا ہے کہ یوغوروں سے خطرہ ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: چین: سنکیانگ کے مسلمانوں کیلئے درجنوں ناموں پر پابندی

گذشتہ چند سالوں سے سنکیانگ میں ہونے والی کشیدگی کے باعث سیکٹروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ چینی حکومت کی جانب سے یہاں امن و امان کی خراب صورت حال کا ذمہ دار اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ ساتھ مشرقی ترکستان کے نام سے ایک علیحدہ ریاست بنانے والوں کو قرار دیا جارہا ہے۔

دوسری جانب چین کی اسٹیٹ کونسل نے جمعرات کو ایک وائٹ پیپر بھی جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ سنکیانگ میں مذہبی آبادی کو تاریخ کے کسی بھی دور سے نہیں ملایا جاسکتا۔