حکومت ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لے آئی

اپ ڈیٹ 12 جولائ 2019

ای میل

سلیم مانڈوی والا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اپوزیشن کے اقدام کے جواب میں سامنے آئی —فائل فوٹو: اے پی پی
سلیم مانڈوی والا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اپوزیشن کے اقدام کے جواب میں سامنے آئی —فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: ایوان بالا (سینیٹ) میں چیئرمین کے خلاف اپوزیشن کی قرارداد کے بعد حکمران جماعت تحریک انصاف نے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروادی۔

حکومت اور اتحادی جماعتوں کی جانب سے سلیم مانڈوی والا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اپوزیشن کے اقدام کے جواب میں سامنے آئی ہے۔

اس حوالے سے تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ 26 سے زائد دستخطوں کے ساتھ یہ قرار داد جمع کروائی گئی ہے، جس پر اتحادی جماعتوں کے دستخط بھی موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: حاصل بزنجو چیئرمین سینیٹ کیلئے اپوزیشن کے متفقہ امیدوار نامزد

انہوں نے کہا کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں تحریک انصاف اور اتحادیوں کی تعداد 36 تھی اور ہم نے سلیم مانڈوی والا کو ووٹ دیا تھا، تاہم اب یہ ہماری حمایت کے حقدار نہیں ہیں، اس لیے ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کروائی۔

ادھرتحریک انصاف کے رہنما اور وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے کہا کہ سلیم مانڈوی والا نے ہمارے ووٹ کی قدر نہیں کی۔

پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ جیسے انہوں نے چیئرمین کی حمایت واپس لی، ہم ڈپٹی چیئرمین سے حمایت واپس لیں گے، ہم عدم اعتماد کی تحریک کا دفاع کریں گے جبکہ سینیٹ میں 15 سے 20 ایسے لوگ نظر آئیں گے جو باکل آزاد ہیں۔

سینیٹ میں پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا، سلیم مانڈی والا

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد سے متعلق کہا کہ ’ اگر سینیٹ کے ارکان سمجھتے ہیں کہ مجھے اس عہدے پر نہیں رہنا چاہیےتو میں خوشی سے چلا جاؤں گا۔

انہوں نے مزید کہا دستخط کرنے والے کچھ سینیٹرز نے مجھے بتایا کہ انہیں تحریک پر دستخط کرنے کا کہا جارہا ہے۔

سلیم مانڈی والا نے کہا کہ سینیٹ میں پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا، یہ عجیب سی روایت جو سینیٹ کے لیے اچھی نہیں ہے۔

خیال رہے کہ 9 جولائی کو سینیٹ کے اپوزیشن اراکین نے ایوان بالا میں چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد جمع کروائی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ سینیٹ میں کام کے طریقہ کار کے رولز میں (چیئرمین یا ڈپٹی چیئرمین کو ہٹانے) کے لیے شامل رول 12 کے تحت صادق سنجرانی کو ہٹایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: صادق سنجرانی چیئرمین، سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب

تاہم اس قرارداد کے بعد چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا تھا کہ وہ رضاکارانہ طور پر اپنے عہدے سے نہیں جائیں گے۔

اس کے علاوہ 11 جولائی کو اپوزیشن کی حکومت مخالف ’رہبر کمیٹی‘ نے چیئرمین سینیٹ کے لیے متفقہ طور پر نیشل پارٹی (این پی) کے سربراہ سینیٹر میر حاصل خان بزنجو کو نامزد کردیا تھا۔

خیال رہے کہ موجودہ چیئرمین صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے گزشتہ برس 12 مارچ کو پی پی پی اور پاکستان تحریک انصاف کی حمایت سے بالترتیب 57 اور 54 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ ان کے مدمقابل چیئرمین سینیٹ کے امیدوار مسلم لیگ (ن) کے راجا ظفر الحق کو 46 جبکہ ڈپٹی چیئرمین کے امیدوار عثمان کاکڑ کو 44 ووٹ ملے تھے۔