اُمہ کے محافظوں کے بھارت میں مفادات ہیں، شاہ محمود قریشی

اپ ڈیٹ 12 اگست 2019

ای میل

وزیرخارجہ نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے مظفرآباد گئے—فائل فوٹو: اے ایف پی
وزیرخارجہ نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے مظفرآباد گئے—فائل فوٹو: اے ایف پی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ دنیا کے بھارت میں مفادات ہیں جبکہ امہ کے محافظوں نے بھارت میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور وہاں ان کے مفادات ہیں۔

مظفرآباد میں صدر آزاد کشمیر مسعود خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہاں آنے کا مقصد کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا تھا تاکہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار یہ پیغام دیا جائے کہ پوری پاکستانی قوم مسئلہ کشمیر پر ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر میں کھڑے ہوکر پیغام دینا الگ ہے، آزاد کشمیر کے دارالخلافہ مظفرآباد میں بات کرنے کی اپنی اہمیت ہے، جسے اجاگر کیا گیا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم دنیا کو جو پیغام دینا چاہتے تھے اس میں ہمیں کامیابی ہوئی، پہلی کامیابی یہ ہوئی کہ پارلیمان نے مشترکہ قرارداد پیش کی، دوسری یہ کہ قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) نے کچھ اہم فیصلے کیے جبکہ تیسرا یہ تھا کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں جانے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے لیے تیاری کرنا ضروری تھی۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کونسل جانے کی تیاری کے لیے پہلا قدم وہاں داخل ہونے کا تھا، اگرچہ مسئلہ کشمیر کا مسئلہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے لیکن پاکستان سیکیورٹی کونسل کا رکن نہیں ہے، لہٰذا وہاں مقدمہ لڑنے کے لیے ایک اچھا وکیل کرنا ضروری تھا اور چین سے بہتر وہ وکالت کوئی نہیں کرسکتا، اسی لیے میں بیجنگ گیا، چینی قیادت سے اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا اور وزیراعظم عمران خان کا پیغام دیا۔

مزید پڑھیں: عیدالاضحیٰ پر حکومت اور اپوزیشن کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چین اس معاملے سے واقف ہے لیکن انہیں دوبارہ اس بارے میں بتایا گیا اور مجھے خوشی ہوئی کہ چین نے ہمارے ساتھ مکمل یکجہتی کا فیصلہ کیا ہے جبکہ جو پاکستان کی جانب سے جو قرارداد سیکیورٹی کونسل کے صدر کو پیش کی جارہی اس پر چین سیکیورٹی کونسل میں پہرا دے گا اور پاکستان کے موقف کو اجاگر کرنے میں چین، ہمارا ساتھی اور معاون ثابت ہوگا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ویسے تو ہم امہ اور اسلام کی بات کرتے ہیں لیکن امہ کے محافظوں نے وہاں (بھارت) میں بہت سرمایہ کاری کی ہوئی ہے، ان کے مفادات ہیں، مسئلہ کشمیر آج کا نہیں ہے بلکہ بہت پرانا ہے لیکن اس پر آج تک کیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جذبات ابھارنا آسان کام ہے جبکہ اعتراض لگانا اس سے بھی زیادہ لیکن ایک مسئلے کو سمجھ کر آگے لے جانا مشکل کام ہے، سیکیورٹی کونسل کے 5 مستقل رکن میں سے کوئی بھی اس میں رکاوٹ بن سکتا ہے، لہٰذا احمقوں کی جنت میں رہنے کے بجائے پاکستانی عوام کو باخبر رہنا چاہیے، وہاں کوئی منتظر نہیں کھڑا بلکہ اس کے لیے نئی جدوجہد کا آغاز کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر کے معاملے پر دنیا بھر کے سربراہان سے بات چیت کی ہے جبکہ میں نے بھی مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطہ شروع کردیا ہے۔

وزیرخارجہ نے دوران گفتگو کہا کہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر دونوں میں ہی کشمیریوں کا متحد ہونا بہت ضروری ہے، چاہے آپ کا کیس کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہوا، اگر دنیا کشمیریوں کو بھارتی اقدام پر احتجاج کرتا نہیں دیکھے گی تو سیکیورٹی کونسل میں دہائیوں سے پڑا یہ کیس وہیں دفن رہے گا، اس کیس سے دھول جھاڑنے اور ازسرنو جان کشمیریوں کی آواز اور پاکستان کی مکمل مدد سے ڈلے گی۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی جدوجہد ایسے وقت میں داخل ہوگئی ہے جو کافی اہم ہے، لہٰذا لوگوں کو اپنا وقت اور تھوڑی توجہ دینا ہوگی کیونکہ مظلوم کی پکار اللہ سنتا ہے اور انشااللہ انہیں کامیابی ضرور ملے گی۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ حریت قیادت کے کچھ دوستوں سے ملاقات ہوئی تو ان سے بھی یہی درخواست تھی کہ وہاں ان کے رشتے داروں، دوست احباب سے گہرا رابطہ ہے لہٰذا انہیں بھی یہ باور کرانا ہوگا کہ اس کی اہمیت کیا ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافے، انتقامی کارروائیوں اور نسل کشی کا خطرہ ہے، جس کے خلاف کسی نا کسی نے آواز اٹھانی ہے اور جب یہ آواز آزاد اور مقبوضہ کشمیر سے اٹھے گی تو اس کا وزن ہی کچھ اور ہوگا۔

اپنی گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ 14 اگست کو وزیراعظم عمران خان مظفرآباد آرہے ہیں، جہاں وہ قانون ساز اسمبلی سے خطاب کریں گے اور ایک مفصل بیان دیں گے جبکہ اسی روز اسلام آباد میں ایک ریلی کا انعقاد بھی کیا جائے گا، سب کو اس میں حصہ ملانا ہے کیونکہ یہ مشترکہ معاملہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں عید کے دن بھی کرفیو، عوام نماز عید کی ادائیگی سے محروم

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ شملہ معاہدہ 1972 میں ہوا تھا، جس میں دو طرفہ تعلقات پر زور دیا گیا تھا لیکن آج اس معاہدے پر بھارت نے حملہ کیا، لہٰذا ہم نے تمام دوطرفہ معاہدوں پر نظرثانی کا فیصلہ کیا ہے، اس کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس میں ملک کے تمام اداروں کے نمائندوں سمیت سول و عسکری قیادت کی نمائندگی ہے۔

دوران گفتگو شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم نے جذباتی فیصلے نہیں کرنے، حکومتیں تاریخ کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر کسی میں بھی کوئی اختلاف نہیں، اس پر سب اکٹھے ہیں، جس کا عملی مظاہرہ آج دیکھ لیا، لہٰذا اس مسئلے میں سیاست کو شامل نہیں کریں اس سے نقصان ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یاسین ملک کا ہمیں احترام ہے لیکن ان کی حالت پر تشویش ہے جس کے بارے میں ان کی اہلیہ بھی بتاچکی ہیں، لہٰذا اگر بھارت کے پاس کچھ چھپانے کو نہیں تو انہیں ویزا دے، بھارت کلبھوشن تک قونصلر رسائی کی تو بات کرتا ہے تو پھر مشعال ملک کی یاسین ملک سے بات کیوں نہیں کروائی جارہی۔