عید الاضحیٰ پر کتنا گوشت کھانا فائدہ مند؟

14 اگست 2019

ای میل

عید کی خوشیوں کے ساتھ ساتھ کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بھی ضروت ہے— شٹر اسٹاک فوٹو
عید کی خوشیوں کے ساتھ ساتھ کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بھی ضروت ہے— شٹر اسٹاک فوٹو

عید الاضحیٰ وہ موقع ہوتا ہے جب دنیا بھر میں مسلمان سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اللہ کے نام پر جانوروں کی قربانی دیتے ہیں۔

قربانی کا گوشت ضرورت مندوں، رشتے داروں اور دیگر میں تقسیم بھی کیا جاتا ہے اور خود بھی مختلف پکوانوں کی شکل میں اسے مزے لے کر کھایا جاتا ہے۔

مزیدپڑھیں: مختلف ممالک میں عید الاضحیٰ کیسے منائی جاتی ہے؟

تاہم عید کی خوشیوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بھی ضروت ہوتی ہے۔

طبی ماہرین یہ مشورہ بھی دیتے ہیں کہ گوشت میں انسانی صحت کے لیے ضروری پروٹینز ہوتے ہیں، اس لیے قربانی کا لذیذ گوشت اعتدال سے کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

مگر گوشت کے ٹکڑے کرتے وقت پلاسٹک کے دستانے ہاتھوں پر ضرور چڑھا لیں تاکہ اگر گوشت یا خون میں کسی قسم کا وائرس (عام طور پر کانگو) ہو تو اس سے بچا جاسکے، ویسے یہ وائرس گوشت پکنے پر ختم ہوجاتا ہے۔

اسی طرح گوشت کو بہت زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ اس سے معدے میں تیزابیت کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اس عید حضورﷺ کے پسندیدہ ترین پکوان کو بنائیں

یہ تیزابیت ذیابیطس، بلڈ پریشر، جگر، دل اور ہیپاٹائٹس کے شکار افراد کے لیے زیادہ بڑے مسائل کا باعث بن سکتی ہیں۔

مصالحے دار پکوان پر کولا مشروبات کا استعمال بھی نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ایک انسان کو دن بھر میں 200 سے 250 گرام سرخ گوشت کی ضرورت ہوتی ہے اور اضافی گوشت جسم میں یورک ایسڈ بڑھاتا ہے جو کہ جوڑوں کے امراض کا باعث بنتا ہے جبکہ گردوں پر بھی بوجھ بڑھتا ہے۔

اور ہاں گوشت کو اچھی طرح پکانا مت بھولیں کیونکہ گوشت کو مناسب طریقے سے نہ بھوننا انفیکشن کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا چاول کھانا موٹاپے سے بچا سکتا ہے؟

اسی طرح باربی کیو بناتے ہوئے گوشت کو بہت زیادہ نہیں جلائیں کیونکہ ایسا کرنے پر ایسے کیمیکلز پیدا ہوتے ہیں جو خطرناک ہوسکتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔