سپریم کورٹ نے جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کا فیصلہ سنا دیا

اپ ڈیٹ 23 اگست 2019

ای میل

جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس میں 5 معاملات سامنے آئے، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ — فائل فوٹو / ڈان نیوز
جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس میں 5 معاملات سامنے آئے، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ — فائل فوٹو / ڈان نیوز

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور ایف آئی اے پہلے ہی ویڈیو کی تحقیقات کر رہا ہے اس لیے سپریم کورٹ فی الحال مداخلت نہیں کر رہی۔

جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سنایا۔

مختصر فیصلہ سناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیس میں 5 ایشو سامنے آئے، پہلا ایشو یہ تھا کہ کونسا فورم ویڈیو پر فیصلہ دے سکتا ہے؟

دوسرا ایشو یہ تھا کہ ویڈیو کو اصل کیسے جانا جائے؟ تیسرا ایشو اگر ویڈیو اصل ہے تو کیسے عدالت میں ثابت کیا جا سکے گا؟

چوتھا ایشو یہ تھا کہ ویڈیو اصل ثابت ہونے پر نواز شریف کی سزا پر کیا اثر ہو سکتا ہے؟ جبکہ پانچواں ایشو احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کے کنڈکٹ سے متعلق تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر چیف جسٹس کا تحریر کردہ کیس کا 25 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں سپریم کورٹ فی الحال مداخلت نہیں کر رہی، معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور ارشد ملک بھی اسی کے ماتحت ہیں، لہٰذا کیس سے متعلق تمام درخواستیں نمٹائی جارہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ویڈیو کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں جب تک صحیح طریقے سے پیش نہیں کیا جاتا تب تک اس کا نواز شریف کو کوئی قانونی فائدہ نہیں ہو سکتا، ہائی کورٹ ویڈیو کے مصدقہ ہونے کا فیصلہ کرے گی اور پھر ثابت ہوگا کہ اسے قانونی طور پر کیس میں ثبوت کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو دیکھنا ہوگا کہ ویڈیو کا جج کے فیصلوں پر کیا اثر پڑا، ہائی کورٹ کے پاس اختیار ہے کہ وہ احتساب عدالت کے جج کی طرف سے دیئے گئے فیصلے میں شہادتوں کا جائزہ لے کر اس سزا کو ختم کردے، وہ دستیاب شہادتوں کو سامنے رکھ کر بھی کوئی فیصلہ دے سکتی ہے، ہائی کورٹ چاہے تو فیصلے کو دوبارہ ٹرائل کورٹ بھی بھیج سکتی ہے اور ٹرائل کورٹ فریقین کو سن کر کیس سے متعلق فیصلہ کر سکتی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) پہلے ہی ویڈیو کی تحقیقات کر رہا ہے اس لیے وڈیو مستند ہے یا نہیں اس کا ابھی فیصلہ نہیں دیا جاسکتا اور اس موقع پر ویڈیو اور اس کے اثرات پر کوئی رائے دینا مناسب نہیں سمجھتے۔

تفصیلی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ارشد ملک بیان حلفی اور پریس ریلیز ایک تلخ حقیقت ہے جس میں انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ بلیک میل ہوئے، جج کا یہ تسلیم کرنا ہمارے لیے چونکا دینے کے مترادف ہے اور ویڈیو پر ارشد ملک کے بیانات ان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جج ایسے لوگوں سے ذاتی ملاقاتیں کرتے رہے جو ملزمان کے ساتھی تھے، وہ ملزم کو سزا دینے کے بعد بھی دوسرے شہر جاکر اس سے ملے، جج ملزم کے بیٹے سے دوسرے ملک جاکر بھی ملے، جج اپنے ہی فیصلے میں مجرم ثابت کرنے والے شخص کی اپیل میں مددگار بنا، جج نے ملزم کے بیٹے سے ملاقات میں اپنے ہی فیصلے کی کمزوریاں بتائیں، ارشد ملک کو دھمکیاں، رشوت کی پیشکش ہوئی لیکن انہوں نے اعلیٰ حکام کو آگاہ نہیں کیا اور دھمکیوں، رشوت کی آفر کے باوجود وہ کیس سے الگ نہیں ہوئے، جج کا طرز عمل ادارے کے لیے بدنما داغ کی طرح ہے اور ان کی مکروہ حرکتوں سے کئی ایماندار ججز کے سر شرم سے جھک گئے۔

کیس کا پس منظر

یاد رہے کہ تین روز قبل روز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے مبینہ ویڈیو اسکینڈل کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی تحقیقات کے لیے اشتیاق احمد مرزا نے ایڈووکیٹ چوہدری منیر صادق کے توسط سے گزشتہ ماہ 11 جولائی کو سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی تھی، جس کے بعد مذکورہ معاملے پر مزید دو درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

مزید پڑھیں: جج ارشد ملک کو تادیبی کارروائی کیلئے لاہور ہائیکورٹ بھیجنے کے احکامات جاری

16 جولائی کو سپریم کورٹ نے درخواستوں پر پہلی سماعت کی تھی اور معاملے کی تحقیقات کے تناظر میں اٹارنی جنرل سے تجاویز طلب کی تھیں۔

دوسری سماعت 23 جولائی کو ہوئی تھی جس میں سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کے معاملے کی تحقیقات 3 ہفتوں میں کرنے کی ہدایت کی تھی۔

ایف آئی اے کو دی گئی مہلت ختم ہونے پر کیس کی آخری سماعت 20 اگست کو ہوئی تھی جس میں سپریم کورٹ نے معاملے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

20 اگست کو ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا تھا کہ جج ارشد ملک کو لاہور ہائی کورٹ واپس کیوں نہیں بھیجا جارہا، ایسا کرنے سے ان کو تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔

اس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ جج ارشد ملک کو ویڈیو اسکینڈل میں مزید تحقیقات کی وجہ سے اسلام آباد میں روکا ہوا تھا۔

گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے ارشد ملک کو تادیبی کارروائی کے لیے واپس لاہور ہائی کورٹ بھیجنے کے احکامات جاری کر دیے تھے۔

ہائی کورٹ سے جاری ہونے والے نوٹی فکیشن کے مطابق ارشد ملک کے خلاف تادیبی کارروائی لاہور ہائی کورٹ کرے گا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ کی ہدایت پر قائم مقام رجسٹرار سید احتشام علی نے نوٹی فکیشن جاری کیا۔

جج ارشد ملک مبینہ ویڈیو کا معاملہ

6 جولائی کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز پریس کانفرنس کے دوران العزیزیہ اسٹیل ملز کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ارشد ملک کی مبینہ خفیہ ویڈیو سامنے لائی تھیں۔

لیگی نائب صدر نے جو ویڈیو چلائی تھی اس میں مبینہ طور پر جج ارشد ملک، مسلم لیگ (ن) کے کارکن ناصر بٹ سے ملاقات کے دوران نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنس سے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔

مریم نواز نے بتایا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے جج نے فیصلے سے متعلق ناصر بٹ کو بتایا کہ 'نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، فیصلے کے بعد سے میرا ضمیر ملامت کرتا رہا اور رات کو ڈراؤنے خواب آتے۔ لہٰذا نواز شریف تک یہ بات پہنچائی جائے کہ ان کے کیس میں جھول ہوا ہے‘۔

انہوں نے ویڈیو سے متعلق دعویٰ کیا تھا کہ جج ارشد ملک ناصر بٹ کے سامنے اعتراف کر رہے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے، ویڈیو میں جج خود کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف ایک دھیلے کی منی لانڈرنگ کا ثبوت نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جج ارشد ملک ویڈیو کیس: سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے تجاویز طلب کرلیں

تاہم ویڈیو سامنے آنے کے بعد احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے خود پر لگنے والے الزامات کا جواب دیا تھا اور ایک پریس ریلیز جاری کی تھی۔

جج ارشد ملک نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے پریس کانفرنس کے دوران دکھائی جانے والی ویڈیو کو مفروضوں پر مبنی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس ویڈیو سے میری اور میرے خاندان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ ان کی مسلم لیگ (ن) کے ناصر بٹ اور ان کے بھائی عبداللہ بٹ کے ساتھ پرانی شناسائی ہے اور دونوں بھائی مختلف اوقات میں مجھ سے مل بھی چکے ہیں۔

اس تمام معاملے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے 2 مرتبہ جج ارشد ملک سے ملاقات کی تھی جبکہ اس تمام معاملے سے متعلق چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کو بھی آگاہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: جج ارشد ملک مبینہ کی ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار، 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

بعد ازاں 12 جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانےکا فیصلہ کیا تھا اور خط لکھا تھا، جس پر وزارت قانون نے احتساب عدالت نمبر 2 کے ان جج کو مزید کام کرنے سے روک دیا تھا اور لا ڈویژن کو رپورٹ کرنے کا کہا تھا۔

اسی روز جج ارشد ملک کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک خط اور بیان حلفی جمع کروایا گیا تھا، جس میں ویڈیو میں لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا گیا تھا۔

بیان حلفی میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے العزیزیہ ریفرنس کے فیصلے کے بعد عہدے سے استعفیٰ دینے کے لیے انہیں 50 کروڑ روپے رشوت دینے کی پیشکش کی تھی۔

جج ارشد ملک نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے نمائندوں کی جانب سے انہیں العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز میں نواز شریف کے حق میں فیصلہ دینے پر مجبور کرنے کے لیے رشوت کی پیشکش اور سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی اور بعد ازاں عہدے سے استعفیٰ دینے پر بھی مجبور کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزارت قانون نے جج ارشد ملک کو کام کرنے سے روک دیا

بیان حلفی میں جج ارشد ملک نے کہا تھا کہ فروری 2018 میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر 2 میں بطور جج تعینات ہونے کے بعد مہر جیلانی اور ناصر جنجوعہ نے رابطہ کیا اور ملاقات کی۔

ساتھ ہی اپنے بیان حلفی میں جج ارشد ملک نے کہا تھا کہ اس ملاقات میں ناصر جنجوعہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس وقت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں موجود بااثر شخصیت کو خصوصی اور ذاتی طور پر میرا نام تجویز کرنے کی وجہ سے مجھے احتساب عدالت نمبر 2 میں جج تعینات کیا گیا، اس حوالے سے ناصر جنجوعہ نے وہاں موجود ایک اور شخص سے کہا تھا کہ میں نے آپ کو چند ہفتے پہلے کہا تھا نا کہ محمد ارشد ملک احتساب عدالت میں جج تعینات ہوگا۔

یاد رہے کہ ارشد ملک وہی جج ہیں جنہوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید بامشقت اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کردیا تھا۔

احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے قومی احتساب بیورو کی جانب سے دائر ریفرنسز پر 19 دسمبر کو محفوظ کیا گیا فیصلہ 24 دسمبر 2018 کو سنایا تھا۔