پریانکا کو سفیر کے منصب سے ہٹانے کے مطالبے پر اقوام متحدہ کا رد عمل

اپ ڈیٹ 23 اگست 2019

ای میل

بولی وڈ اداکارہ نے رواں سال بھارتی فوج کو لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے پر سراہا تھا —فوٹو/ اسکرین شاٹ
بولی وڈ اداکارہ نے رواں سال بھارتی فوج کو لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے پر سراہا تھا —فوٹو/ اسکرین شاٹ

بولی وڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا کو خیر سگالی سفیر کے عہدے سے ہٹانے کے مطالبے پر آخر کار اقوام متحدہ نے اپنا بیان جاری کردیا۔

اقوام متحدہ کے ترجمان کا اپنے بیان میں پریانکا چوپڑا کے خلاف سامنے آنے والے مطالبے پر کہنا تھا کہ اداکارہ ذاتی حیثیت میں کوئی بھی بیان دے سکتی ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ پریانکا چوپڑا کا بیان ذاتی تھا تاہم تنظیم کو یہ امید ہے کہ اداکارہ جب بھی بطور خیر سگالی سفیر بات کریں گی تو غیر جانبداری کا مظاہرہ کریں گی۔

خیال رہے کہ پاکستان کی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے چند روز قبل اقوام متحدہ کے چلڈرنز فنڈ (یونیسف) کے سربراہ کو خط لکھ کر بھارتی اداکارہ پریانکا چوپڑا کی جانب سے جنگ کی حمایت میں دیئے گئے بیان پر انہیں خیر سگالی سفیر کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست کی تھی۔

یونیسیف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہینریتا ایچ فور کو لکھے گئے خط میں شیریں مزاری نے نشاندہی کی تھی کہ پریانکا چوپڑا، جو 2016 میں یونیسیف کی عالمی خیر سگالی سفیر نامزد ہوئی تھیں، نے عوامی سطح پر بھارتی حکومت کے اقدامات کو سراہا اور پاکستان کو بھارتی وزیر دفاع کی جانب سے ملنے والے جوہری حملے کی دھمکی کی بھی حمایت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ تمام باتیں امن اور خیرسگالی کے اصولوں کے منافی ہیں، اداکارہ کی جنگ کی حمایت نے ان کا اقوام متحدہ کا نمائندہ ہونے پر سوال کھڑا کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں: پریانکا چوپڑا سے سفیر کا عہدہ واپس لیا جائے، شیریں مزاری کا یونیسیف کو خط

شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ 'اگر انہیں فوری طور پر نہیں ہٹایا جاتا تو اقوام متحدہ کے خیر سگالی سفیر برائے امن کا نظریہ عالمی سطح پر مذاق بن جائے گا'۔

یاد رہے کہ اس تنازع کا آغاز رواں سال 26 فروری کو ہوا جب بھارت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے پاکستان کی حدود میں در اندازی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے مبینہ کیمپ کو تباہ کردیا۔

جس کے بعد پریانکا چوپڑا نے بھارتی فوج کی حمایت کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ جاری کی تھی۔

بولی وڈ اداکارہ نے اپنی ٹوئٹ میں بھارتی فوج کی حمایت کرتے ہوئے 'جے ہند' لکھا جبکہ IndianArmedForces# کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا تھا۔

اداکارہ کی یہ ٹوئٹ سامنے آنے کے فوری بعد انہیں سوشل میڈیا پر جنگ کی حمایت کرنے اور بھارتی فوج کو لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی حمایت کے باعث شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جبکہ خیر سگالی کی سفیر کے عہدے سے ہٹانے کے لیے دستخطی مہم کا آغاز بھی کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پریانکا پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کی خواہاں؟

بعدازاں رواں ماہ کے آغاز میں پریانکا چوپڑا سے پاکستانی نژاد امریکی خاتون عائشہ ملک نے ایک ایونٹ کے دوران بھارتی فوج کی حمایت میں کی جانے والی ٹوئٹ سے متعلق سوال کیا تھا۔

عائشہ ملک نے اداکارہ سے سوال کیا تھا کہ انہوں نے رواں برس فروری میں ٹوئٹ کے ذریعے بھارتی فوج کی حمایت کی اور کیا وہ مبینہ طور پر دونوں ممالک میں نیوکلیئر جنگ کی خواہاں ہیں؟

جنگ کی خواہش کے سوال پر پریانکا چوپڑا نے کہا تھا کہ وہ ایک محب وطن بھارتی ہیں۔

جس کے بعد پاکستانی اداکارہ مہوش حیات نے بھی اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے بولی وڈ اداکارہ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ کسی بھی سنگین مسئلے پر بات کرنے سے قبل سوچ لیا کریں۔

مزید پڑھیں: پریانکا امریکا میں بیٹھ کر بھارتیوں کی زبان بول رہی ہیں،مہوش حیات

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ میں لکھے گئے اپنے مضمون میں مہوش حیات نے پریانکا چوپڑا کو احساس دلایا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کی خیر سگالی کی سفیر ہیں اور انہیں امن پھیلانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

مہوش حیات نے پریانکا چوپڑا کے بیان کو عام بھارتیوں کے خیالات کی ترجمانی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اداکارہ نے امریکا میں بیٹھ کر عام بھارتی افراد کی زبان بولی۔