کشمیر میں بھارتی جبر کو ہر صورت روکنا ہوگا، وزیراعظم کا جرمن چانسلر کو فون

اپ ڈیٹ 23 اگست 2019

ای میل

خطے میں امن واستحکام کےلیے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا—فائل فوٹو:اے ایف پی
خطے میں امن واستحکام کےلیے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا—فائل فوٹو:اے ایف پی

وزیر اعظم عمران خان نے جرمن چانسلر انجیلا مرکل سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور انہیں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ظالمانہ اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے زور دیا کہ عالمی برادری فوری طور پر اپنا کردار ادا کرے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق ‘وزیراعظم عمران خان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کے خاتمے اور جغرافیائی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے لیے کیے گئے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات پر تبادلہ خیال کے لیے جرمن چانسلر ڈاکر انجیلا مرکل کو ٹیلی فون کیا’۔

بیان میں کہا گیا کہ ‘وزیراعظم نے جرمن چانسلر کو آگاہ کیا کہ بھارتی اقدامات، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، عالمی قانون اور ان کے اپنے وعدوں کی صریح خلاف ورزی ہے’۔

مزید پڑھیں:عمران خان اور ٹرمپ میں ایک مرتبہ پھر رابطہ، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر گفتگو

وزیراعظم ہاؤس کا کہنا تھا کہ دوران گفتگو ‘عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سمیت لاک ڈاؤن، تمام مواصلاتی رابطوں کو منقطع کرنے اور غذائی اجناس اور ادویات کی کمی جیسے مسائل کو اجاگر کیا’۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ‘بھارتی جبر میں اضافہ کشمیریوں کے بھاری جانی نقصان کا نتیجہ ہوگا، جس کو ہر قیمت پر روکنا چاہیے’۔

جرمن چانسلر سے گفتگو کے دوران وزیر اعظم نے ‘بھارت کی جانب سے چند جھوٹے آپریشن یا لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر دیگر بغیر سوچے سمجھے اٹھائے گئے اقدامات پر تحفظات بھی نمایاں کیے’۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ظالمانہ اقدامات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘بھارتی اقدامات خطے میں امن و استحکام کے لیے سنگین نتائج رکھتے ہیں اور عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر کردار ادا کرے’۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق ٹیلی فون پر گفتگو میں انجیلا مرکل نے کہا کہ ‘جرمنی اس صورت حال کا قریب سے جائزہ لے رہا ہے’۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کا طیب اردوان اور مہاتیر محمد سے رابطہ، کشمیر کی صورتحال پر گفتگو

انہوں نے ‘کشیدگی میں کمی اور مسائل کے پُرامن حل کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا’۔

اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مل جل کر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

واضح رہے کہ 5 اگست کو بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل کرنے کے اقدام کے بعد وزیراعظم نے سفارتی تعاون کے سلسلے میں ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد، ترک صدر رجب طیب اردوان اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا۔