عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ میں ایک مرتبہ پھر رابطہ، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر گفتگو

اپ ڈیٹ 20 اگست 2019

ای میل

شاہ محمود قریشی نے میڈیا کو گفتگو کے بارے میں بریفنگ دی—اسکرین شاٹ
شاہ محمود قریشی نے میڈیا کو گفتگو کے بارے میں بریفنگ دی—اسکرین شاٹ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک مرتبہ پھر رابطہ ہوا، جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا اور ہمیں امید ہے کہ امریکا اس موجودہ کشیدگی اور تنازع کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی ڈونلڈ ٹرمپ سے 16 اگست کو بھی گفتگو ہوئی تھی، جس میں وزیراعظم نے پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا تھا، اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ کشمیر کے معاملے پر نریندر مودی سے بات کریں گے اور آج ٹرمپ اور مودی کی خطے میں کشیدگی کم کرنے پر گفتگو ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ 10 بجے وزیراعظم عمران خان اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں بھی ٹیلی فونک رابطہ ہوا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اسے فوری طور پر ختم ہونا چاہیے اور خطے میں امن کو ہرصورت برقرار رہنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: پاک-بھارت کشیدگی کم کی جائے، ٹرمپ کی مودی سے گفتگو

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے آج ڈونلڈ ٹرمپ کو پاکستان کا موقف وضاحت اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا جبکہ بھارتی حکومت کے اقدامات کی وجہ سے خطے کی صورتحال کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کہا کہ 5 اگست کے بھارت کے اقدامات نے خطے کو ایک سنگین صورتحال سے دوچار کردیا ہے، مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی اقدامات یکطرفہ تھے، ان اقدامات کے پیچھے عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقے کی حیثیت کو تبدیل کرنا مقصود تھا جبکہ بھارت کا ارادہ ہے کہ مسلم اکثریتی علاقے کو اقلیتی علاقے میں تبدیل کردیا جائے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بتایا کہ پاکستان کی رائے میں بھارتی حکومت کے اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، ان اقدامات کے بعد جس نئی صورتحال نے جنم لیا اس سے انسانی حقوق کا ایک بحران جنم لے سکتا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مکمل بلیک آؤٹ ہے، وہاں کی اصل صورتحال اور حقائق کیا ہیں، یہ دنیا کی نظروں سے اوجھل ہیں۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'وزیراعظم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو کہا کہ آج کرفیو کو 15 روز ہوگئے، اس کا اندازہ اور لوگوں کی کیفیت کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ہزاروں افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ بہت سے لوگوں کو گرفتاری کے بعد کشمیر سے باہر منتقل کردیا گیا'۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان اور ٹرمپ میں رابطہ، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات چیت

وزیر خارجہ نے کہا کہ عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ سے یہ بھی گزارش کی کہ ان کی رائے میں صورتحال اتنی تشویشناک ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مبصرین کو فی الفور مقبوضہ کشمیر بھیجا جائے تاکہ صحیح صورتحال دنیا کے سامنے آسکے کیونکہ حقائق نہیں بتائے جارہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے امریکی صدر کا کشمیر کی صورتحال میں دلچسپی لینے اور رابطہ کرنے پر شکریہ ادا کیا اور وزیراعظم سمجھتے ہیں کہ یہ تعمیری رابطے ہیں، لہٰذا ہمیں توقع ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکا اس تنازع کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم سجھتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے آج پاکستانی قوم کی امنگوں کے مطابق نہتے کشمیریوں کے جذبات کی ترجمانی کی ہے اور جس انداز میں وزیراعظم نے پاکستانیوں اور کشمیریوں کا مقدمہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے پیش کیا اس پر مجھے فخر ہے۔