افغان امن عمل معطل: پاکستان کا تمام فریقین پر تحمل سے بات چیت جاری رکھنے پر زور

ای میل

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کی ہے—فائل فوٹو: ڈان نیوز
ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کی ہے—فائل فوٹو: ڈان نیوز

وزارت خارجہ نے امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات معطل ہونے پر تمام فریقین کو تحمل سے بات چیت جاری رکھنے پر زور دیا۔

افغان طالبان اور واشنگٹن کے درمیان افغان امن مذاکرات معطل ہونے کے معاملے پر دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کی گئی۔

مزیدپڑھیں: افغان امن مذاکرات معطل: طالبان کی امریکا کو سخت نتائج کی دھمکی

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مخلصانہ طور پر مشترکہ ذمہ داری کے تحت افغان امن عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کیا۔

وزارت خارجہ نے زور دیا کہ افغان امن عمل میں شامل تمام فریقین صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور مخلصانہ طریقے سے امن عمل کو آگے بڑھایا جائے۔

علاوہ ازیں ترجمان وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ’پاکستان خطے کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے‘۔

انہوں نے واضح کیا کہ ’افغانستان کے مسائل کا حل سیاسی ہے‘۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ تمام فریقین جلد از جلد مذاکرات کے میز پر آکر افغان مسئلے کا سیاسی حل تلاش کریں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ اور طالبان رہنماؤں کی 'خفیہ ملاقات' منسوخ، افغان مذاکراتی عمل بھی معطل

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان مذاکرات کی جلد از جلد بحالی کا خواہاں ہے‘۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ جاری امن مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے طالبان رہنماؤں سے آج ہونے والی 'خفیہ ملاقات' منسوخ کردی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وہ آج امریکا آرہے تھے، بدقستمی سے جھوٹے مفاد کے لیے انہوں نے کابل میں حملے کی ذمہ داری قبول کی، جس میں ہمارا ایک عظیم سپاہی سمیت 11 افراد ہلاک ہوئے'۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کا سلسلہ معطل کردیا تاہم اب امریکا کو پہلے کے مقابلے میں ’غیر معمولی نقصان‘ کا سامنا ہوگا لیکن پھر بھی مسقتبل میں مذاکرات کے لیے دروازے کھلے رہیں گے۔

افغان طالبان کی جانب سے انکشاف کیا گیا تھا کہ امریکی صدر کی جانب سے امریکا کے دورے کی دعوت ہمیں اگست کے آخر میں ڈاکٹر زلمے خلیل زاد نے دی تھی اور ہم نے دورے کو دوحہ میں معاہدے کے دستخط تک مؤخر کردیا تھا۔

مزیدپڑھیں: کابل کو امریکا طالبان معاہدے پر ’تشویش‘، وضاحت مانگ لی

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا تھا کہ 'یہ بات شاید کسی کو بھی معلوم نہیں کہ طالبان کے اہم رہنما اور افغان صدر مجھ سے کیمپ ڈیوڈ میں علیحدہ علیحدہ خفیہ ملاقات کرنے والے تھے'۔

بعدازاں امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ طالبان سے نئے مذاکرات خارج ازامکان نہیں ہیں۔

پومپیو کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کی دست برداری کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے لیکن اگر طالبان حملے جاری رکھتے ہیں انہیں فوجی دباؤ بڑھانے کے لیے خبردار کیا ہے۔