صدر مملکت بیوروکریسی کے سست رویے پر نالاں

اپ ڈیٹ 15 اکتوبر 2019

ای میل

دفتری امور وقت پر ختم کرنے کی ضرورت ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
دفتری امور وقت پر ختم کرنے کی ضرورت ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سرکاری فائلوں کو آگے بڑھانے میں بیوروکریسی کے سست رویے پر شکوے کا اظہار کردیا۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) کے تحت منعقدہ ’انجینئرنگ ایجوکیشن اینڈ پریکٹس‘ کانفرنس میں صدر مملکت نے کہا کہ ’میں بیوروکریسی کے رویہ سے بہت پریشان ہوں‘۔

مزیدپڑھیں: بیوروکریسی کا نیب سے گلہ مسترد کرتا ہوں، چیئرمین جاوید اقبال

ڈاکٹر عارف علوی نے بتایا کہ ایک شخص نے ایوان صدر میں ایک فائل بھیجی لیکن 6 ماہ تک اسٹاف کو وہ فائل نہیں ملی اور جب ملی تو کہا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بھیجی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ’فائلوں کو بے مقصد ایک سے دوسرے دفتر گھمانا ہماری قابلیت بن چکی ہے‘۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے زور دیا کہ ’دفتری امور بروقت ختم کرنے کی ضرورت ہے، اس کے لیے فیصلے جلد لینے چاہیے‘۔

واضح رہے کہ چند بیوروکریٹس نے وزیراعظم عمران خان سے شکایت کی تھی کہ انہیں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے ہراساں اور دھکمی آمیز رویے کا سامنا ہے جس کے باعث بیوروکریٹس دفتری فائلوں پر دستخط کرنے میں کتراتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سول بیوروکریسی حکومت کے راستے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے، وزیراعظم

بعدازاں بعض سینئر بیوروکریٹس کی شکایت پر حکومت نے نیب کو لگام دینے اور تاجربرادری اور بیوروکریسی کو سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے کوششیں شروع کی تھیں۔

اسی کوششوں کے تناظر میں حکومت نے گزشتہ ہفتے سینیٹ میں بل متعارف کرایا جو نیب کے اختیارات کو محدود کرنے سے متعلق تھا۔

علاوہ ازیں صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے پی ای سی کو ہدایت کی کہ وہ عالمی رحجان اور معاشرے کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے انجینئرنگ تعلیم کے فروغ کے لیے منصوبہ تیار کریں۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ تعلیم کی فراہمی کے ساتھ لوگوں کے مسائل کا بھی حل نکالیں، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ملکی انجینئرز کو عوامی بھلائی کے لیے اپنی خدمات پیش کرنی چاہیے‘۔

مزیدپڑھیں: ‘ٹیکنوکریٹس، بیوروکریسی پر انحصار سے بیرونی سرمایہ کاری نہیں لائی جاسکتی'

اس موقع پر تقریب میں وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا کہ ’میں وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے درخواست کروں گا کہ وہ بزنس ٹائیکون کے بجائے ملک کے نوجوان سے ملیں‘۔

چوہدری فواد کا کہنا تھا کہ ’30 سیٹھ کے بجائے پوری قوم کا مفاد مدنظر رکھا جائے‘۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ہر سال فارغ التحصیل ہونے والے ہزاروں طلبا و طالبات کو ملازمت فراہم نہیں کرسکتی اس لیے انجینئرنگ میں ملازمت سے متعلق رویہ میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

دریں اثنا پی ای سی کے چیئرمین انجینئر جاوید سلیم قریشی نے صدر مملکت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انجینئرز کو وزارت اور فیصلہ ساز اداروں میں ملازمت نہیں ملتی، ’گریجویٹ سی ایس ایس امتحان سیکنڈ ڈویژن سے پاس کرکے گریڈ 21 کا سیکریٹری بن جاتا ہے جبکہ انجینئرز گریڈ 17 سے آگے نہیں بڑھ پاتے‘۔

مزیدپڑھیں: آغا سراج کے گھر چھاپہ: ’چیئرمین نیب تحقیقات کریں ورنہ ہم ایکشن لیں گے‘

انہوں نے کہا کہ انجینئرز کو فیصلہ ساز اداروں میں فرائض انجام دینے کا موقع ملا تو وہ ملک کی قسمت بدل سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے 28 مارچ کو بیوروکریسی کا نیب سے گلہ مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ نیب حکومت کا ادارہ ہے، آپ جمہوریت کی خدمت کررہے ہیں ہم معاونت کررہے ہیں۔