ٹانک: قبائلی گروپوں کے درمیان تصادم میں 13 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 17 اکتوبر 2019

ای میل

پولیس نے مسلح افراد کے خلاف آپریشن شروع کر دیا — فائل فوٹو / اے ایف پی
پولیس نے مسلح افراد کے خلاف آپریشن شروع کر دیا — فائل فوٹو / اے ایف پی

خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں دو قبائلی گروپوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہو گئے۔

پولیس حکام کے مطابق واقعہ تھانہ ملازئی کی حدود میں اس وقت پیش آیا جب مبینہ طور پر بیٹنی قبیلے سے تعلق رکھنے والے نامعلوم مسلح افراد نے شربتی روڈ پر فائرنگ کرکے مروت قبیلے کے 2 افراد کو قتل کردیا۔

جب مروت قبیلے کو واقعے کی اطلاع ملی تو اس نے اپنے مسلح ساتھیوں کے ہمراہ گاؤں اماخیل میں واقع پیٹرول پمپ پر موجود افراد پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں بیٹنی قبیلے کے 2 افراد ہلاک ہوگئے۔

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ بعد ازاں انعام گروپ نے مزید اشتعال میں آکر درہ بین روڈ پر بیٹنی قبیلے کی وین پر فائرنگ کی جس میں 9 افراد ہلاک ہوئے۔

فائرنگ کے واقعات میں 2 افراد زخمی بھی ہوئے، لاشوں اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال (ڈی ایچ کیو) ٹانک منتقل کردیا گیا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر مسلح افراد کے خلاف آپریشن شروع کر دیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے واقعات بظاہر دونوں گروپوں کے درمیان دیرینہ دشمنی کے باعث پیش آئے۔

فائرنگ کے واقعات کی کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی اور نہ ہی تاحال کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔

تاہم پولیس حکام کا کہنا تھا کہ حالات کو مزید کشیدہ ہونے سے بچانے کے لیے علاقے اور ہسپتال میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے ہلاکتوں کا نوٹس لیتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔

انہوں نے آئی جی خیبر پختونخوا کو واقعے کی انکوائری رپورٹ ہنگامی بنیادوں پر جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔