سپریم کورٹ: خیبرپختونخوا خصوصی اختیارات آرڈیننس کے خلاف درخواست دائر

اپ ڈیٹ 18 اکتوبر 2019

ای میل

کسپریم کورٹ میں دائر درخواس کا مسودہ ایڈووکیٹ خواجہ احمد حسین نے تیار کیا— فائل فوٹو: اے ایف پی
کسپریم کورٹ میں دائر درخواس کا مسودہ ایڈووکیٹ خواجہ احمد حسین نے تیار کیا— فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: صوبہ خیبرپختونخوا میں بنیادی حقوق کے خلاف رواں برس اگست میں نافذ کیے گئے ایکشن ان ایڈ آف سول پاور آرڈیننس کو معطل کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ درخواست کے پیچھے متحرک قوت پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رہنما فرحت اللہ بابر ہیں، ان کے علاوہ دیگر افراد میں انسانی حقوق کے کارکنان افراسیاب خٹک، بشرہ گوہر اور روبینہ سیگل شامل ہیں اور تمام افراد کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے جبکہ اس درخواست کا مسودہ ایڈووکیٹ خواجہ احمد حسین نے تیار کیا۔

ایکشن این ایڈ آف سول پاور آرڈیننس کے تحت مسلح فورسز کو کسی بھی فرد کو صوبے میں کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ بغیر وجہ بتائے اور ملزم کو عدالت میں پیش کیے بغیر گرفتاری کا اختیار حاصل ہوجاتا ہے۔

مزید پڑھیں: ایم ٹی آئی آرڈیننس کا مقصد سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری نہیں، عمران خان

درخواست میں کہا گیا کہ آئین میں 25ویں ترمیم سے قبل قبائلی علاقہ جات آرٹیکل 247 کے تحت چلائے جاتے تھے، جس میں صدر مملکت کو وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے ( فاٹا) اور صوبے کے زیر انتظام قبائلی علاقے (پاٹا) میں امن اور حکومت سے متعلق قوانین بنانے کا اختیار حاصل تھا۔

2011 میں صدر مملکت نے ایکشنز (ان ایڈ آف سول پاور) ریگولیشز کو نافذ کیا تھا جس کا اطلاق فاٹا اور پاٹا پر ہوتا تھا۔

ان قوانین میں واضح کیا گیا تھا کہ ملک کی سالمیت کو درپیش خطرات کی وجہ سے قانون کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔

تاہم 25ویں ترمیم کے بعد سے آئین میں سے آرٹیکل (7)247 کا خاتمہ کردیا گیا جسے گزشتہ برس 31 مئی کو نافذ کیا گیا تھا اس کے ساتھ ہی فاٹا اور پاٹا دونوں کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا گیا تھا۔

درخواست میں کہا گیا کہ آرڈیننس کو اگست کے آغاز میں خفیہ طور پر نافذ کیا گیا اور ستمبر کے وسط میں صوبائی حکومت کی جانب سے اسے پبلک کیے جانے سے قبل خیبرپختونخوا میں قوانین کی پیروی کرنے والے درخواست گزار بھی آرڈیننس کے نفاذ سے لاعلم تھے۔

اس میں درخواست گزاروں نے کہا کہ قانون کے تحت چلنے والے معاشرے میں قانون سازی کرنے والے اداروں پر شہریوں کو تمام قوانین سے آگاہ کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اس سلسلے میں کوئی رازداری نہیں ہونی چاہیے۔

درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی کہ عدالت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو حکم دے کہ وہ آرڈیننس کے تحت گرفتار کیے جانے والے تمام افراد کے مقدمات پر نظرثانی کرے اور انہیں رہا کرے یا انہیں قانون نافذ کرنے والے سول اداروں کو منتقل کرے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے ماضی کے مقابلے میں 50 فیصد کم آرڈیننس جاری کیے، پی ٹی آئی سینیٹر

اس میں یہ استدعا بھی کی گئی کہ عدالت ہدایت دے کہ دونوں حکومتیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی جانب سے منظور کیے گئے تمام قوانین چاہے بنیادی ہو یا مجوزہ قانون سازی، انہیں اپنی آفیشل ویب سائٹس پر پوسٹ کریں۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ سپریم کورٹ وفاقی حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل (1) 245 تحت جاری کی گئی کسی بھی ہدایت کو غیر قانونی قرار دے جو مسلح فورسز کو ایسے طریقے سے کارروائی کی اجازت دیتا ہے جو سول قانون نافذ کرنے والے کو دیے گئے اختیارات سے بالاتر ہے۔