چکر بن سلمان اور بنتِ لوہان کا

11 نومبر 2019

ای میل

پہلے ہی بتادیں کہ ہماری یہ تحریر کسی ذاتی معاملے یا کردار سے متعلق نہیں بلکہ خالصتاً ’فارن افیئر‘ کے بارے میں ہے۔ اب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی امریکی اداکارہ و گلوکارہ لنزے لوہان سے ’دوستی‘ کو ’فارن افیئر‘ ہی کہیں گے ناں!

بہت دنوں سے خبریں گردش کر رہی تھیں کہ محمد بن سلمان امریکی خاتون کو اپنے طیارے پر دنیا دکھاتے رہے ہیں، انہیں دیگر تحائف کے ساتھ بطور تحفہ کریڈٹ کارڈ بھی دے چکے ہیں اور دونوں ایک دوسرے سے ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے رابطے میں رہتے ہیں۔

تاہم لنزے لوہان کے ’پاپا جانی‘ مائیکل لوہان نے وضاحت کی اور محمد بن سلمان کے ساتھ اپنی بیٹی کے تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے اس تعلق کو ’روحانی‘ اور ’پاک محبت‘ پر مبنی قرار دیا۔

مائیکل صاحب کا کہنا ہے کہ دونوں شخصیات کا باہمی تعلق محض اس بنا پر قائم ہوا کہ لنزے لوہان مشرق وسطیٰ میں لوگوں اور خاص طور پر مہاجرین کی مدد کے لیے کام کر رہی ہیں۔ جب والد محترم سے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں محمد بن سلمان کے مبیّنہ طور پر ملوث ہونے کی بابت سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا، ’اس حوالے سے کچھ ثابت نہیں ہوسکا ہے۔ لنزے کہتی ہے کہ وہ اچھے انسان ہیں۔’

دوستی ہم مزاجی، یکساں صفات و عادات اور مشترکہ مشاغل سے جنم لیتی ہے، سو محمد بن سلمان اور لنزے لوہان کے درمیان یہ تعلق ہونا بھی چاہیے۔ دونوں اپنی ذات میں انجمن ہیں۔ امریکی اداکارہ، گلوکارہ بھی ہیں، نغمہ نگار بھی، بزنس وومن اور فیشن ڈیزائنر بھی، وہ فلم ساز بھی ہیں اور سماجی کارکن بھی۔

بھائی محمد بن سلمان تو پورا سعودی عرب ہیں، ولی عہد ہیں، نائب وزیرِاعظم بھی (وزیراعظم بادشاہ سلامت خود ہیں)، اس کے ساتھ وزیرِ دفاع کا منصب، مختلف کونسلوں کی سربراہی بھی سنبھالے ہوئے ہیں یوں سمجھ لیں کہ سعودی عرب میں جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے۔

دونوں میں مہاجرین بھی قدرِ مشترک ہیں۔ وہ مہاجرین کی پیداوار بڑھانے میں حصہ لیتے ہیں اور یہ ان مہاجرین کی مدد کر رہی ہیں۔ ایک فیشن ڈیزائنر ہے تو دوسرا اپنی مملکت کو نیا فیشن دے رہا ہے۔

تو بھئی بنِ سلمان اور بنتِ لوہان میں کوئی پیمان ہو بھی جائے تو حیرت کیسی اور مذمت کیسی؟ خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو۔

مگر دونوں کے پاس مل بیٹھنے کا وقت کہاں، چنانچہ ٹیکسٹ میسجز ہی کے توسط سے باہم رابطہ رکھا جاتا ہے۔ ظاہر ہے وہ سعودی ولی عہد اور وہ ہولی وڈ کی اداکارہ ہیں، اس لیے ان کے موضوعات بھی مختلف ہی ہوں گے۔ ہمارے خیال میں ان کے ٹیکسٹ میسج کچھ ایسے ہوتے ہوں گے:

لنزے لوہان: ’ہائے شہزادے’

محمد بن سلمان: ’اہلاً سہلاً مرحبا’

لنزے لوہان: ’میں مہاجرین کی مدد کے لیے گئی تھی، وہاں کوئی ملا ہی نہیں’

محمد بن سلمان: ‘پریشان کیوں ہوتی ہو، میں مہاجرین کی نئی کھیپ تیار کردیتا ہوں’

لنزے لوہان: ‘اوہ واقعی؟ تم کتنے سوئٹ ہو’

محمد بن سلمان: ’شُکراً! اچھا یہ بتاؤ کہ میرا تحفہ کیسا لگا؟ یہ اصلی عقیقِ یمنی ہے’

لنزے لوہان: ’ہاں مل گیا، بہت سُرخ ہے’

محمد بن سلمان: ’یہ ہمارا کارنامہ ہے، جب سے ہم نے یمن پر دھاوا بولا ہے یمنی عقیق زیادہ سُرخ ہوگئے ہیں’

لنزے لوہان: ’اس کی کوئی خاصیت؟’

محمد بن سلمان: ’یہ ہر بلا سے محفوظ رکھتا ہے’

لنزے لوہان: ’اچھا، تم نے تجربہ کیا ہے؟’

محمد بن سلمان: ’ہاں، جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سے میں یمنی عقیق پہنا ہوا ہوں اور ہر بلا سے محفوظ ہوں’

لنزے لوہان: ’تمہارے جیسے شریف آدمی پر بلاوجہ اس قتل کا الزام آیا، خدا جمال خاشقجی کے قاتلوں کو غارت کرے۔’

لنزے لوہان: ’ایم بی ایس!’

لنزے لوہان: ’پرنس!’

لنزے لوہان: ’کہاں گئے؟’

محمد بن سلمان: ’سوری، یمنی عقیق والی انگوٹھی انگلی میں ڈھیلی لگ رہی تھی، دھاگا باندھ کر اس کی گرفت مضبوط کر رہا تھا’

لنزے لوہان: ’ہاں تو ہم کیا بات کر رہے تھے؟’

محمد بن سلمان: ’تم اپنی کسی نئی فلم کا تذکرہ کر رہی تھیں’

لنزے لوہان: ’ہممم’

محمد بن سلمان: ’یہ تو بتاؤ کہ تمہاری نئی فلم کب آرہی ہے؟’

لنزے لوہان: ’بہت جلد۔ تم فلموں کے شوقین ہو؟’

محمد بن سلمان: ’فلموں سے زیادہ میں ’شوٹنگ’ کا دل دادہ ہوں’

لنزے لوہان: ’واﺅ، میں آرٹ لورز کی بہت عزت کرتی ہوں’

محمد بن سلمان: ’میں تو آرٹ کا دیوانہ ہوں خاص طور پر مارشل آرٹ کا’

لنزے لوہان: ’تمہیں موسیقی کیسی پسند ہے’

محمد بن سلمان: ’پاپ میوزک اور جنگی ترانے’

لنزے لوہان: ’تمہارا مطلب ہے پوپ میوزک؟ کوئی پسندیدہ گانا’

محمد بن سلمان: ’کئی گانے ہیں جو بار بار سنتا ہوں۔ جیسے، چاہے کوئی مجھے جنگلی کہے، کہنے دو جی کہتا رہے۔ یا پھر ’شام‘ ہے دھواں دھواں ٹِن ٹُنو ٹُن ٹُن ٹِن ٹُنو ٹُنو ٹُن ٹُن ٹِن ٹُنو ٹُن جسم کا رواں رواں کہہ رہا ہے آرزو کی داستاں من تو پے واروں یمن تو پے واروں’

لنزے لوہان: ’ڈیئر! گانے کے صحیح بول ہیں من تو پے واروں تن توپے واروں’

محمد بن سلمان: ’ارے میری بھولی، یمن میں وار ہو تو تن ہی تو وارے جائیں گے’

لنزے لوہان: ’ایک بات کہوں، بُرا تو نہیں مانو گے’

محمد بن سلمان: ’بُرا کیسے مان سکتا ہوں، تم امریکی ہو’

لنزے لوہان: ’تم نے اتنی اصلاحات کی ہیں اپنے ملک میں جمہوریت بھی لے آﺅ’

محمد بن سلمان: ’ہمارے ہاں پہلے ہی اتنی ریت ہے، ہر طرف ریت ہی ریت ہے تو پھر ہم جمہوریت کیوں لائیں؟’

لنزے لوہان: ’ارے میں سعودی عرب میں ڈیموکریسی لانے کی بات کر رہی ہوں’

محمد بن سلمان: ’یہ کیا چیز ہے؟’

لنزے لوہان: ’ارے تمہیں ڈیموکریسی کا نہیں پتا؟ پتا کرو کہ یہ کیا ہوتی ہے’

محمد بن سلمان: ’مجھے پتا کرنے کا تجربہ نہیں، لاپتا کرنا ہو تو کہو’

لنزے لوہان: ’میں سمجھی نہیں’

محمد بن سلمان: ’جانے دو، اچھا میں بعد میں بات کرتا ہوں، مودی انکل آگئے ہیں۔’