اسموگ کے باعث لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد میں 2 روز تک اسکول بند رکھنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 14 نومبر 2019

ای میل

لاہور میں طالب علم اسکول جاتے ہوئے حفاظتی ماسک پہنے ہوئے ہیں — فائل فوٹو/اے ایف پی
لاہور میں طالب علم اسکول جاتے ہوئے حفاظتی ماسک پہنے ہوئے ہیں — فائل فوٹو/اے ایف پی

پنجاب کے محکمہ تعلیم نے اسموگ کی وجہ سے لاہور، گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں تمام سرکاری و نجی اسکولوں کو بند رکھنے کا اعلان کردیا۔

صوبائی حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تینوں اضلاع میں 'اسموگ' کی وجہ سے اسکولوں کو بند رکھا جائے گا۔

پنجاب کے وزیر برائے تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام دیا کہ حکومت اسکول جانے والے بچوں کا ہر صورت تحفظ کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پنجاب حکومت فضا کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے'۔

مزید پڑھیں: لاہور کی فضا کا معیار بدستور 'خطرناک'، ایئرکوالٹی انڈیکس 447 تک جاپہنچا

واضح رہے کہ دو روز قبل صوبائی محکمہ تعلیم نے صوبے بھر میں 20 دسمبر تک سرکاری و نجی اسکولوں کو کھلی فضا میں کسی بھی قسم کی سرگرمی کرنے پر پابندی عائد کی تھی اور اس کی وجہ اسموگ کو ہی ٹھہرایا تھا'۔

حکومت نے تمام طالب علموں کو اسکول کے اوقات کے دوران ایئر فلٹر ماسک پہننے کی ہدایت کی تھی اور ماحولیات سے متعلق آگاہی مہم چلانے کا بھی فیصلہ کیا تھا۔

یہ دوسری مرتبہ ہے کہ حکومت نے اسموگ کی وجہ سے اسکولوں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لاہور کی فضا کا معیار بدستور 'خطرناک' ہے اور ایئر ویژول کے فضا کے معیار کے انڈیکس (اے کیو آئی) کی درجہ بندی 447 تک پہنچ گئی۔

یاد رہے کہ 301 سے 500 (یا اس سے زائد) کے درمیان اے کیو آئی کی درجہ بندی کو 'خطرناک' قرار دیا جاتا ہے اور 'ہنگامی صورتحال کے صحت کا انتباہ جاری' کردیا جاتا ہے اور اس سے پوری آبادی کے متاثر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں اسموگ سے معمولات زندگی متاثر، سرکاری و نجی اسکولز بند

واضح رہے کہ 151 سے 200 کے درمیان اے کیو آئی کی سطح کو 'مضر صحت' قرار دیا جاتا ہے اور فضا کے اس معیار سے مکمل آبادی کو منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جبکہ 'حساس گروپس' جیسے پھیپھڑوں کی بیماری کا سامنا کرنے والے افراد، بچوں اور بزرگوں کو زیادہ خطرہ ہوگا۔

خیال رہے کہ گزشتہ 4 برس سے اسموگ کا سیزن جاری ہے جبکہ اس سیزن کو لاہور کا 5واں سیزن کہا جارہا ہے اور جس کی وجہ سے نومبر سے فروری تک زہریلے دھویں کی پرتوں کے باعث لوگ دھوپ اور شام کے وقت کی توجہ سے محروم ہوگئے ہیں۔

حکومتی حکام اسموگ کا ذمہ دار بھارت میں فصلوں کو جلانے کو قرار دیتے ہیں تاہم ماہرین کہتے ہیں یہ صورتحال ملک میں آلودگی کی وجہ سے ہے۔