آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں لاہور کی صورتحال بہتر، تیسرے نمبر آگیا

اپ ڈیٹ 16 نومبر 2019

ای میل

ازبکستان کے شہر تاشقند، لاہور کی جگہ لیتے ہوئے دوسرے نمبر پر آگیا جبکہ نئی دہلی پہلے نمبر پر برقرار ہے۔ — فائل فوٹو/اے ایف پی
ازبکستان کے شہر تاشقند، لاہور کی جگہ لیتے ہوئے دوسرے نمبر پر آگیا جبکہ نئی دہلی پہلے نمبر پر برقرار ہے۔ — فائل فوٹو/اے ایف پی

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی فضا کا معیار 'خطرناک' سے 'مضر صحت' قرار دے دیا گیا اور ایئر ویژول کے فضا کے معیار کے انڈیکس (اے کیو آئی) پر اس کے پوائنٹس 157 تک کم ہوگئے ہیں۔

قبل ازیں لاہور کئی ہفتوں تک دنیا کا دوسرا آلودہ ترین شہر قرار دیا گیا تھا تاہم اس کا درجہ کم ہوکر تیسرے پر آگیا ہے۔

ایئر ویژول کی رپورٹ کے مطابق ازبکستان کے شہر تاشقند درجہ بندی میں لاہور کی جگہ لیتے ہوئے دوسرے نمبر پر آگیا جبکہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی پہلی پوزیشن پر اب بھی برقرار ہے۔

مزید پڑھیں: لاہور کی فضا کا معیار بدستور 'خطرناک'، ایئرکوالٹی انڈیکس 447 تک جاپہنچا

کراچی کا فضائی معیار جسے اس سے قبل 'صحت کے لیے نامناسب' قرار دیا گیا تھا، اب 'حساس لوگوں کی صحت کے لیے نامناسب قرار دیا گیا ہے جو ایئر کوالٹی انڈیکس کی درجہ بندی میں 144 پر ہے۔

واضح رہے کہ 151 سے 200 کے درمیان اے کیو آئی کی سطح کو 'مضر صحت' قرار دیا جاتا ہے اور فضا کے اس معیار سے مکمل آبادی کو منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جبکہ 'حساس گروپس' جیسے پھیپھڑوں کی بیماری کا سامنا کرنے والے افراد، بچوں اور بزرگوں کو زیادہ خطرہ ہوگا۔

وہ علاقے جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس کی درجہ بندی 101 سے 150 تک ہو، اسے 'حساس لوگوں کے لیے مضر صحت' قرار دیا جاتا ہے جو جگر کی بیماریوں، بچوں اور بوڑھوں سمیت دیگر مخصوص لوگوں کی صحت کے لیے خدشے کا باعث ہوتا ہے تاہم اس سے عام لوگوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں اسموگ سے معمولات زندگی متاثر، سرکاری و نجی اسکولز بند

خیال رہے کہ گزشتہ 4 برس سے اسموگ کا سیزن جاری ہے جبکہ اس سیزن کو لاہور کا 5واں سیزن کہا جارہا ہے جس کی وجہ سے نومبر سے فروری تک زہریلے دھوئیں کی پرتوں کے باعث لوگ دھوپ اور شام کے وقت کی توجہ سے محروم ہوگئے ہیں۔

حکومتی حکام اسموگ کا ذمہ دار بھارت میں فصلوں کو جلانے کو قرار دیتے ہیں تاہم ماہرین کہتے ہیں یہ صورتحال ملک میں آلودگی کی وجہ سے ہے۔

اس سال صورتحال انتہائی خراب ہے، یہاں تک کہ پنجاب حکومت نے پہلی مرتبہ اسموگ کی وجہ سے اسکولوں کو 2 مرتبہ بند کیا تھا۔

متاثرہ شہر کے رہائشیوں کی جانب سے حکومت پر صورتحال کو قابو پانے کے لیے ناکافی اقدامات کرنے کا الزام لگایا جارہا ہے تو وہی انتظامیہ اس بات پر زور دے رہی ہے کہ وہ اسموگ سے نمٹنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔

علاوہ ازیں طلبہ کا ایک گروپ اے کیو آئی پیمائش کے نظام میں تبدیلی اور اسموگ پالیسی پر عملدرآمد کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرچکا ہے۔