نیب کا مریم نواز کی ضمانت منسوخی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع

06 دسمبر 2019
مریم نواز کو لاہور ہائی کورٹ نے ضمانت دی تھی—فائل فوٹو: عدنان شیخ
مریم نواز کو لاہور ہائی کورٹ نے ضمانت دی تھی—فائل فوٹو: عدنان شیخ

قومی احتساب بیورو (نیب) نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو دی گئی ضمانت کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کرلیا۔

خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے 31 دسمبر کو محفوظ کیا گیا فیصلہ 4 نومبر کو سناتے ہوئے چوہدری شوگر ملز (سی ایس ایم) کیس میں مریم نواز کو غیرمعینہ مدت کے لیے ضمانت دی تھی۔

تاہم عدالت عالیہ کی جانب سے دی گئی اس ضمانت کے خلاف نیب نے آج سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی۔

اپنی درخواست میں نیب نے اعتراض اٹھایا کہ لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کی رہنما کو شاید 'غلطی میں آکر' ضمانت بعد ازگرفتاری دی کیونکہ اس میں قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) 1999 کی دفعہ 9 (بی) کے تحت بیان کیے گئے کرمنل لا کے بنادی اصولوں کو زیرغور نہیں لایا گیا۔

مزید پڑھیں: چوہدری شوگر ملز کیس: مریم نواز ضمانت پر رہا

نیب کی درخواست میں مزید کہا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ ہوسکتا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے گزشتہ حکم کو نظرانداز کیا ہو۔

احتساب کے قومی ادارے کی جانب سے یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ مریم نواز کا چوہدری شوگر ملز کے مرکزی شیئرہولڈرز کی حیثیت سے بڑی رقم کی سرمایہ کاری کے ذریعے منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔

عدالت میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ مریم نواز 93-1992 کے دوران کچھ غیرملکیوں کی مدد سے منی لانڈرنگ میں ملوث تھیں جبکہ اس عرصے میں ان کے والد نواز شریف ملک کے وزیراعظم تھے۔

انسداد کرپشن کے ادارے نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ وہ نیب کو لاہور ہائی کورٹ کے حکم کی قانونی حیثیت جانچنے کی اجازت دے، ساتھ ہی یہ درخواست کی گئی کہ عدالت عظمیٰ ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے 'انصاف کے مفاد' میں مریم نواز کی ضمانت منسوخ کرے۔

مریم نواز کی ضمانت

خیال رہے کہ 8 اگست کو چوہدری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر کو ان کے کزن یوسف عباس کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا، بعد ازاں 25 ستمبر کو احتساب عدالت نے انہیں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے 30 ستمبر کو اسی کیس میں ضمانت بعد ازگرفتاری کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا تھا۔

تاہم اکتوبر کے اواخر میں ان کے والد نواز شریف کی اچانک طبیعت خرابی کے باعث انہوں نے 24 اکتوبر کو بنیادی حقوق اور انسانی بنیادوں پر فوری رہائی کے لیے متفرق درخواست دائر کردی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: نوازشریف کو علاج کیلئے بیرون ملک جانا چاہیے، مریم نواز

اس درخواست پر سماعت میں نیب کے ایڈیشنل پراسیکوٹر جنرل نے مریم نواز نواز کی انسانی بنیادوں پر ضمانت کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ بیان کردیا گیا ہے کہ انتہائی غیرمعمولی حالات میں ملزم کو ضمانت دی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ مریم نواز کا کیس انتہائی غیرمعمولی حالت میں نہیں آتا۔

تاہم عدالت عالیہ نے مریم نواز کی درخواست ضمانت کو منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا لیکن انہیں اپنا پاسپورٹ اور ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا کہا گیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں