بارھویں عالمی اردو کانفرنس کا تیسرا روز: ‘میڈیا کتنا قید کتنا آزاد’ خصوصی سیشن

08 دسمبر 2019

ای میل

صحافیوں، دانش وروں، شاعروں اور ناقدین نے اپنے مقالات پیش کیے—فوٹو:بشکریہ آرٹس کونسل ٹویٹر
صحافیوں، دانش وروں، شاعروں اور ناقدین نے اپنے مقالات پیش کیے—فوٹو:بشکریہ آرٹس کونسل ٹویٹر

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری بارھویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز میڈیا کی آزادی، کتابوں کی رونمائی، ثقافت، فنون اور زبان پر مختلف سیشنز منعقد ہوئے جہاں دنیا اور ملک بھرسے آئے ہوئے اردو کے محققین اور دانش وروں نے گفتگو کی اور مقالے پیش کیے۔

بارھویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز کا آغاز بھی گزشتہ روز کی طرح اردو نثر سے ہوا جس کا عنوان ‘اردو فکشن-معاصر منظرنامہ تھا’، جہاں مقالات پیش کیے گئے اور طویل سیشن میں افسانہ اور ناول پر پڑنے والے عالمی سیاسی اثرات کا بھی ذکر کیا گیا۔

دوسرے سیش میں ‘پاکستانی ثقافت: تخلیقی و تنقیدی جائزہ’ پیش کیا گیا، سیشن کی صدارت جامعہ کراچی کے پاکستان اسٹڈی سینٹر کے سابق ڈائریکٹر سید جعفر احمد نے کی جبکہ شرکا میں چاروں صوبوں کے دانش ور شامل تھے اور سندھ کے صوبائی وزیر سید سردار شاہ بھی شریک تھے۔

صوبائی وزیر سے جعفر احمد نے سوالات بھی کیے جس پر انہوں نے اپنی وزارت کی جانب سے کیے اقدامات گنوائے اور مستقبل میں سندھ کے اندرونی اضلاع میں ثقافتی حوالے سے کام شروع کرنے کے فیصلوں سے آگاہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:بارھویں عالمی اردو کانفرنس: دوسرے روز زبان و ادب پر سیشن

ترقی پسند شاعر سرور بارہ بنکوی کی کلیات کا بھی اجرا کیا گیا، اس سیشن میں افتخار عارف نے مرحوم شاعر کی شخصیت اور فن پر گفتگو کی جبکہ افسانہ نگار آصف فرخی نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔

عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز پنجابی ادب، جدید سندھی ادب اور جاپان اور پاکستان کے ادبی ، ثقافتی روابط کے علاوہ نعیم بخاری کے ساتھ بھی ایک سیشن رکھا گیا تھا، یورپین لٹریری سرکل ایوارڈ اور امرجلیل کے ساتھ سیشن میں نوالہدیٰ شاہ اور ایوب شیخ نے میزبانی کی۔

کتابوں کی رونمائی کے سیشن میں قاسم بگھیو کی کتاب لسانیات تا سماجی لسانیات کی رونمائی کی گئی جس پر جامعہ کراچی کے شعبہ اردو کے ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے لسانیات کے حوالے سے گفتگو کی، فراست رضوی کی کتاب سلام فلسطین پر ایس ایم طحہ اور دوزخ نامہ پر معروف صحافی غازی صلاح الدین نے تبصرہ کیا۔

بارھویں عالمی اردو کانفرنس میں میڈیا کی صورت حال پر خصوصی سیشن بھی تھا جس میں سنیئر صحافیوں نے شرکت کی اور اپنے تجربات اور خدشات سے آگاہ کیا، سیشن میں وسعت اللہ خان، مظہر عباس، اویس توحید، عاصمہ شیرازی اور عامر ضیا نے گفتگو کی۔

عالمی مشاعرے میں مشہور شعرا نے اردو کانفرنس کو یاد گار بنایا جس میں شرکت کے لیے بھارت سے رنجیت سنگھ چوہان بھی آئے جہاں غزل اور مزاحیہ شاعری بھی پیش کی گئی۔

؎

کہیں ناکے پہ ناکا چل رہا ہے، کہیں ڈاکے پہ ڈاکا چل رہا ہے

کہیں منصوبہ بندی کے ہیں چرچے، کہیں کاکے پہ کاکا چل رہا ہے

عالمی مشاعرے کے ساتھ تیسرا روز مکمل ہوا جس کو سننے کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد آرٹس کونسل پہنچ گئی تھی اور مشاعرے میں امجد اسلام امجد، پیرزادہ قاسم، انور شعور، صابر ظفر، یاسمین حمید، اشفاق حسین، ایوب خاور، ناصر کاظمی کے صاحبزادے باصر کاظمی، ڈاکٹر انعام الحق جاوید اور عباس تابش سمیت مشہور شعرا اس محفل کا حصہ تھے۔