کراچی: ساتھی اہلکار کے قتل پر رینجرز کے معطل سپاہی کو سزائے موت

اپ ڈیٹ 09 دسمبر, 2019

ای میل

رینجرز کے معطل سپاہی کو 2016 میں گرفتار کیا گیا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی
رینجرز کے معطل سپاہی کو 2016 میں گرفتار کیا گیا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی

کراچی کی ایک عدالت نے 2016 میں معمولی تنازع پر بیرک میں اپنے ساتھی اہلکار کو قتل کرنے کے الزام پر معطل سپاہی کو سزائے موت سنا دی۔

ماڈل کرمنل کورٹ ایسٹ کے جج حلیم احمد نے سید علی مرتضیٰ کو معمولی تنازع پر قتل کرنے کا مجرم قرار دیا اور سزا بھی سنائی اس کے علاوہ قانونی وارثین کو 2 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا بصورت دیگر 6 ماہ کی قید کی سزا ہوگی۔

معطل سپاہی سید علی مرتضیٰ کو گلشن اقبال میں 23 اکتوبر 2016 کو 63 ونگ بھٹائی رینجرز کی بیرک میں تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد سرکاری رائفل سے ساتھی سپاہی معشوق علی کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہونے سزائے سنائی گئی۔

پراسیکیوشن کے مطابق دونوں سپاہیوں کے درمیان تلخ جملوں کے بعد تنازع شدت اختیار کرگیا جو بیت الخلا میں زیادہ وقت لینے پر شروع ہوا تھا اور وہ ان کے باہر نکلنے کا انتظار کررہے تھے۔

مزید پڑھیں:کراچی میں رینجرز اہلکاروں کا جھگڑا، ایک ہلاک

ملزم کے خلاف تعزیرات پاکستان کے سیکشن 302 کے تحت شاہراہ فیصل تھانے میں مقدمہ درج کردیا گیا تھا۔

مقدمہ رینجرز کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا اور سید علی مرتضیٰ کو بعد ازاں معطل کردیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ 23 اکتوبر 2016 کو رینجرز سپاہی علی مرتضیٰ نے اپنے ساتھی پر فائرنگ کرتے ہوئے رائفل سے 6 گولیاں چلائی تھیں جس میں سے 3 گولیاں معشوق علی کو لگی تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 38 سالہ معشوق علی ولد جان محمد کو فوری طبی امداد کے لیے سول ہسپتال لے جایا گیا، جہاں سے ان کو جناح ہسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں ان کو طبی امداد کے لیے نیوی کے ہسپتال پی این ایس شفا بھی لے جایا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ چکے تھے۔

پولیس نے بتایا تھا کہ واقعے کا مقدمہ شاہراہ فیصل تھانے میں رینجرز حکام کی مدعیت میں درج کروایا گیا اور ملزم اہلکار کو پولیس حراست میں لے کر فائرنگ کے لیے استعمال کی گئی رائفل کو بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔