میشا شفیع نے ’جنسی ہراساں‘ کیس پر سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

ای میل

میشا شفیع نے اپریل 2018 میں علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا—فوٹو: انسٹاگرام
میشا شفیع نے اپریل 2018 میں علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا—فوٹو: انسٹاگرام

گلوکارہ میشا شفیع نے محتسب اعلیٰ پنجاب، گورنر پنجاب اور لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ’جنسی ہراساں‘ کیس کا فیصلہ علی ظفر کے حق میں سنائے جانے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔

میشا شفیع نے سپریم کورٹ میں رواں برس 11 اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ’جنسی ہراساں کیس‘ علی ظفر کے حق میں سنائے جانے کے خلاف درخواست دائر کی ہے۔

میشا شفیع نے گزشتہ برس اپریل میں علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگانے کے بعد پنجاب کی خاتون محتسب اعلیٰ کے دفتر میں ’جنسی ہراسانی‘ کا مقدمہ دائر کیا تھا۔

محتسب اعلیٰ نے گزشتہ برس اگست میں میشا شفیع کا ’جنسی ہراسانی‘ کا کیس ’تکنیکی بنیادوں‘ پر مسترد کردیا تھا، جس کے بعد گلوکارہ نے گورنر پنجاب کے دفتر میں درخواست دائر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: محتسب اعلیٰ و گورنر پنجاب نے میشا شفیع کی درخواست مسترد کردی

گلوکارہ میشا شفیع کے وکلا نے اگست 2018 میں ہی تصدیق کی تھی کہ گورنر پنجاب نے بھی محستب اعلیٰ پنجاب کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے اور گلوکارہ کی درخواست کو مسترد کردیا گیا۔

محتسب اعلیٰ اور گورنر پنجاب کی جانب سے ’تکنیکی بنیادوں‘ پر درخواستیں خارج کیے جانے کے بعد گلوکارہ نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

تاہم رواں برس اکتوبر میں لاہور ہائی کورٹ نے بھی میشا شفیع کی درخواست مسترد کرتے ہوئے محتسب اعلیٰ اور گورنر پنجاب کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ نے 19 اکتوبر 2019 کو میشا شفیع کی درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ میشا شفیع کا کیس ورک پلیس ہراسمنٹ کے قانون میں نہیں آتا۔

مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ: علی ظفر کے خلاف میشا شفیع کی درخواست مسترد

لاہور ہائی کورٹ نے 34 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ میشا شفیع اور علی ظفر کے درمیان مالک اور ملازم کا رشتہ نہیں تھا۔

سماعت کرنے والے لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شاہد کریم کا فیصلے میں کہنا تھا کہ میشا شفیع نے ایک خود مختار خاتون کو ورکنگ وومن کی تعریف میں شامل کرنے کی استدعا کی جو قانون کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میشا شفیع نے اپنی شکایت میں یہ دعوی نہیں کیا تھا کہ وہ کمپنی کی سپروائزر یا ملازمہ تھی جس کے باعث ان کا کیس ورک پلیس ہراسمنٹ کے قانون میں نہیں آتا۔

عدالت کے فیصلے کے مطابق ورک پلیس ہراسمنٹ کا قانون ہر خاتون کیلئے نہیں ہے، یہ صرف ان خواتین کیلئے ہے جو کام کی جگہ پر ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: میشا شفیع ہراسانی کیس، کام کی جگہ پر ہراسمنٹ کے قانون میں نہیں آتا، لاہور ہائی کورٹ

تاہم اب خبر سامنے آئی ہے کہ میشا شفیع نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرلی۔

میشا شفیع نے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اپنی درخواست میں محتسب اعلیٰ پنجاب، گورنر پنجاب اور گلوکار علی ظفر کو فریق بنایا گیا ہے۔

میشا شفیع نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کاالعدم قرار دیا جائے۔

خیال رہے کہ اس کیس کے برعکس میشا شفیع اور علی ظفر کا ایک اور کیس لاہور کی سیشن کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

مزید پڑھیں: میشا شفیع نے ہتک عزت کیس میں بیان ریکارڈ کروادیا

لاہور سیشن کورٹ میں چلنے والا کیس علی ظفر کی جانب سے ہتک عزت کی دائر کی گئی درخواست کا کیس ہے جو انہوں نے میشا شفیع کے خلاف کر رکھا ہے۔

علی ظفر نے میشا شفیع پر جنسی ہراسانی کا جھوٹا الزام لگانے کے تحت ایک ارب روپے کے ہرجانے کا کیس کر رکھا ہے جس پر متعدد سماعتیں ہو چکی ہیں اور اس کیس میں علی ظفر اور ان کے گواہوں کے بیانات بھی قلم بند ہو چکے ہیں۔

اسی کیس میں 9 دسمبر کو میشا شفیع نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کروادیا تھا، اس سے قبل ان کی والدہ اداکارہ صبا حمید اور اداکارہ عفت عمر گلوکارہ کی جانب سے بطور گواہ پیش ہوئی تھیں۔

اسی کیس کی اگلی سماعت 20 دسمبر کو ہوگی جس میں میشا شفیع کے مزید گواہوں کے بیانات قلم بند کیے جائیں گے۔