پاکستان میں دہائی بعد ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی،اظہر علی سری لنکن ٹیم کے شکرگزار

اپ ڈیٹ 10 دسمبر 2019

ای میل

پاکستان کے کپتان اظہر علی اور سری لنکن قائد دمتھ کرونارتنے سیریز کی ٹرافی کی تقریب رونمائی کے موقع پر مصافحہ کر رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کے کپتان اظہر علی اور سری لنکن قائد دمتھ کرونارتنے سیریز کی ٹرافی کی تقریب رونمائی کے موقع پر مصافحہ کر رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی

پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی نے 10سال بعد دوبارہ پاکستان کا دورہ کر کے ملک میں ٹیسٹ کرکٹ بحال کرنے پر سری لنکن کرکٹ ٹیم کا شکریہ ادا کیا ہے۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کل راولپنڈی میں دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ کھیلا جائے گا جس کے ساتھ ہی ملک میں 10 سال کے طویل عرصے کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی ہوگی۔

راولپنڈی میں اپنے سری لنکن ہم منصب دمتھ کرونارتنے کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اظہر علی نے کہا کہ یہ ایک تاریخی موقع ہے اور تمام کھلاڑی اس کا حصہ بننے پر بہت پرجوش ہیں۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا بھی پاکستان آ کر سیریز کھیلنے پر رضامند

انہوں نے کہا کہ ہم یہاں آنے پر سری لنکن ٹیم کے شکر گزار ہیں، ہم نے آخری ٹیسٹ میچ بھی انہی کے خلاف کھیلا تھا لہٰذا ان کے دورے سے دنیا کو ایک اچھا پیغام جائے گا کہ ہمیں ایک دوسرے کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ مارچ 2009 میں لاہور میں ٹیسٹ میچ کے لیے اسٹیڈیم آنے والی سری لنکن ٹیم کی بس پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک اور کھلاڑیوں اور آفیشل سمیت متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

اس حملے کے بعد پاکستان پر کرکٹ سمیت عالمی کھیلوں کے دروازے بند ہو گئے تھے اور پاکستانی ٹیم کو اپنی تمام ہوم سیریز متحدہ عرب امارات کے نیوٹرل مقام پر کھیلنا پڑیں۔

یہ بھی پڑھیں: سری لنکن ٹیم ٹیسٹ سیریز کھیلنے کیلئے پاکستان پہنچ گئی

ملک میں 6 سال کے طویل عرصے کے بعد زمبابوے کے دورے کے نتیجے میں عالمی کرکٹ کی بحالی کی جانب پہلا قدم رکھا گیا تھا اور اس کے بعد سیکیورٹی کی صورتحال بتدریج بہتر ہونے کی بدولت پاکستان سپر لیگ کے ساتھ ساتھ غیر ملکی ٹیموں کے دوروں کے نتیجے میں ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہوئی۔

رواں سال ستمبر اکتوبر میں سری لنکن ٹیم نے محدود اوورز کی سیریز کے لیے پاکستان کا کامیاب دورہ کیا جس کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی کی امیدیں روشن ہو گئیں اور سری لنکا کی ٹیم کی آمد کے ساتھ ہی ملک میں ایک دہائی کے طویل عرصے کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے جا رہا ہے۔

قومی ٹیم کے اسکواڈ میں شامل تمام 16 کھلاڑیوں کا یہ پاکستان میں پہلا ٹیسٹ میچ ہو گا کیونکہ ان تمام ہی کھلاڑیوں نے مذکورہ حملے کے بعد پاکستان کے لیے ٹیسٹ ڈیبیو کیا جبکہ 75 ٹیسٹ میچ کھیلنے والے کپتان اظہر علی کا بھی یہ پاکستانی سرزمین پر پہلا ٹیسٹ میچ ہو گا۔

مزید پڑھیں: پاک-سری لنکا سیریز کے لیے ماہرین پر مشتمل کمنٹری پینل کا اعلان

اظہر علی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگر نوجوان یہاں کرکٹ ہوتے ہوئے نہیں دیکھیں گے تو یہ ہماری کرکٹ اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہت بڑا نقصان ہو گا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے سالوں میں پاکستان کے میدان مزید انٹرنیشنل میچوں کی میزبانی کریں گے۔

کپتان اظہر علی بھی گزشتہ کچھ عرصے سے بدترین فارم سے دوچار ہیں اور دورہ جنوبی افریقہ کے بعد آسٹریلین سرزمین پر بھی ان کی فارم پریشان کن تھی جہاں وہ دونوں دوروں میں بالترتیب 59 اور 62 رنز اسکور کر سکے، تاہم اب وہ بہتر کارکردگی کے ذریعے فارم میں واپسی اور ٹیم کی کامیابی کے لیے پرامید ہیں۔

رواں سال محدود اوورز کی سیریز کے لیے پاکستان آنے سے انکار کرنے والے سری لنکن کپتان دمتھ کرونارتنے نے بھی کہا کہ ان کی ٹیم کے کھلاڑی اس تاریخی موقع کا حصہ بننے پر بہت خوشی محسوس کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اب ٹیموں کو پاکستان آ کر نہ کھیلنے کی وجہ بتانا ہو گی،احسان مانی

رواں سال سری لنکن ٹیم کی کارکردگی ٹیسٹ کرکٹ میں گزشتہ سالوں کی نسبت بہتر رہی ہے اور وہ جنوبی افریقہ کو اسی کی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز میں شکست دینے والی پہلی ٹیم بنی۔

اس کے بعد انہوں نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن میں قدم رکھا تو نیوزی لینڈ جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر سیریز 1-1 سے ڈرا کی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سری لنکن ٹیم 1992 سے پاکستان میں کوئی سیریز نہیں ہاری اور اس کے بعد سے اب تک کھیلی گئی چار سیریز میں سے انہوں نے دو میں فتح حاصل کی جبکہ دو سیریز ڈرا ہوئیں۔

دو سال قبل سری لنکن نے متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں 0-2 سے مات دی تھی جو پاکستان کی 8 سال میں متحدہ عرب امارات میں کسی ٹیسٹ سیریز میں پہلی شکست تھی۔

کرورنارتنے نے امید ظاہر کی کہ ان کی ٹیم دو سال قبل حاصل کی گئی فتح سے تحریک لیتے ہوئے اس سیریز میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کے دورہ پاکستان کا فیصلہ رواں ہفتے متوقع

انہوں نے کہا کہ ہم نے 2017 میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا لہٰذا ہم پراعتماد ہیں۔

واضح رہے کہ کھیل کے دیگر فارمیٹس کی طرح ٹیسٹ کرکٹ میں بھی رواں سال پاکستان کی کارکردگی انتہائی ابتر رہی اور اسے سال کے آغاز میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں 0-3 سے کلین سوئپ کا سامنا کرنا پڑا اور پھر آسٹریلیا میں بھی سیریز میں 0-2 سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ٹیسٹ کل سے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جبکہ سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ کی میزبانی 19 دسمبر سے کراچی کا نیشنل اسٹیڈیم کرے گا۔