نومبر میں ترسیلات زر میں اضافہ ہوا، اسٹیٹ بینک

اپ ڈیٹ 11 دسمبر 2019

ای میل

سعودی عرب جوغیر ملکی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اس سے آنے والی ترسیلات میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی —فائل فوٹو: اے ایف پی
سعودی عرب جوغیر ملکی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اس سے آنے والی ترسیلات میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی —فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترسیلات زر نومبر کے دوران 9.35 فیصد اضافے کے ساتھ ایک ارب 81 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہی جو مالی سال 2019 کے اسی مہینے میں ایک ارب 66 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھی۔

تاہم ماہانہ بنیاد پر غیر ملکی آمدنی میں 9.05 فیصد یعنی 18 کروڑ 10 ہزار ڈالر کمی واقع ہوئی جبکہ رواں سال اکتوبر میں یہ2 ارب ڈالر تھی۔

مزیدپڑھیں: ترسیلات زر سے متعلق اسٹیٹ بینک کے اقدامات پر کرنسی ڈیلرز کی تنقید

اسی طرح رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ کے دوران غیر ملکی آمدنی 9 ارب 29 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہنے کی وجہ سے ترسیلات زر میں 0.18 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصہ میں یہ 9 ارب 28 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھی۔

سعودی عرب جو غیر ملکی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے وہاں سے ترسیلات زر میں اس میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی اور جولائی تا نومبر کے دوران ترسیلات زر 0.36 فیصد کم ہوکر 2 ارب 14 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہوگئیں جبکہ مالی 2019 کے پانچ ماہ میں یہ 2 ارب 15 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھی۔

اس کے علاوہ امریکا اور برطانیہ سے ترسیلات زر میں مالی سال 2020 کے 5 ماہ میں کمی آئی اور یہ بالترتیب 33.07 فیصد اور 18.05 فیصد سے 5.25 فیصد اور 3.58 فیصد پر آگئی۔

تاہم امریکا سے آمدنی مالی سال 2019 کے جولائی سے نومبر کے 2019 کے 1 ارب 45 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں ایک ارب 53 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔

یہ بھی پڑھیں: رواں مالی سال: 11 ماہ میں ترسیلات زر 10 فیصد بڑھ کر 20 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئیں

اسی طرح برطانیہ سے ایک ارب 42 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی ترسیلات زر ریکارڈ کی گئیں جو گزشتہ سال کے اسی مہینے میں 1 ارب 37 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تھیں۔

علاوہ ازیں متحدہ عرب امارات سے ترسیلات زر دوسرے نمبر پر موصول ہوئیں، تاہم اس میں 3.7 فیصد کمی سے یہ ایک ارب 92 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی جو مالی سال 19-2018 کے پانچ مہینوں میں ایک ارب 99 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تھی جبکہ پچھلے سال کی اسی مدت میں 13 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

نومبر کے اعدادوشمار میں سرفہرست 4 ممالک سے مایوس کن اعداد و شمار بشمول سالانہ اور ماہانہ بنیادوں پر کمی دیکھنے میں آئی۔

اکتوبر میں سعودی عرب سے ترسیلات زر46 کروڑ 81 لاکھ 80 ہزار ڈالر سے کم ہو کر 40 کروڑ 78 لاکھ 80 ہزار ڈالر رہی، اسی طرح امریکا سے 32 کروڑ 23 لاکھ 80 ہزار ڈالر کے مقابلے میں 29 کروڑ 86 لاکھ ڈالر موصول ہوئے۔

علاوہ ازیں متحدہ عرب امارات سے 39 کروڑ 89 لاکھ 60 ہزار ڈالر کے مقابلے میں 38 کروڑ 37 لاکھ ڈالر آئے جبکہ برطانیہ سے 32 کروڑ 86 لاکھ 90 ہزار ڈالر کے مقابلے میں 28 کروڑ 55 لاکھ 60 ہزار ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں: ترسیلات زر میں 8.45 فیصد اضافہ، 17 ارب ڈالر سے متجاوز

خلیج تعاون کونسل کے دیگر ممالک کی طرف سے آنے والی آمدنی میں معمولی اضافہ دیکھا گیا کیونکہ مالی سال جولائی تا نومبر کے دوران غیر ملکی آمدنی 0.28 فیصد بڑھ کر 88 کروڑ 34 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے اسی مہینوں میں 88 کروڑ 13 لاکھ 40 ہزار ڈالر تھی۔

اسی طرح ملائیشیا سے آنے والی آمدنی میں معمولی 0.96 فیصد ہوا جو 65 کروڑ 80 لاکھ 40 ہزار ڈالر سے بڑھ کر 66 کروڑ 40 لاکھ 30 ہزار ریکارڈ کی گئی۔

انہی اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ مالی سال 18-2017 کے اسی عرصے میں اس میں 64 فیصد کا زبردست اضافہ دیکھا گیا تھا۔


یہ خبر 11 دسمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی