لاہور: وکلا کا امراض قلب کے ہسپتال پر دھاوا، 3 مریض جاں بحق

ای میل

وکلا نے ہسپتال پر پتھر برسائے توڑ پھوڑ کی—تصویر: ڈان نیوز
وکلا نے ہسپتال پر پتھر برسائے توڑ پھوڑ کی—تصویر: ڈان نیوز
وکلا نے ہسپتال کے باہر کھڑی گاڑیوں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا—تصویر: ڈان نیوز
وکلا نے ہسپتال کے باہر کھڑی گاڑیوں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا—تصویر: ڈان نیوز
وکلا کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کےشیل برسائے—تصویر: ڈان نیوز
وکلا کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کےشیل برسائے—تصویر: ڈان نیوز
مشتعل افراد نے پولیس موبائل کو بھی آگ لگادی—تصویر: ڈان نیوز
مشتعل افراد نے پولیس موبائل کو بھی آگ لگادی—تصویر: ڈان نیوز

لاہور میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) میں وکلا نے ہنگامہ آرائی کر کے ہسپتال کے اندر اور باہر توڑ پھوڑ کی جس کے باعث طبی امداد نہ ملنے سے 3 مریض جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لے لیا۔

گرینڈ ہیلتھ الائنس کے چیئرمین ڈاکٹر سلمان حسیب کے مطابق اس پرتشدد مظاہرے کے دوران 4 مریض اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔

تاہم صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد نے پریس کانفرنس کے دوران 3 مریضوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی۔

رپورٹس کے مطابق مریض تشویش ناک حالت میں تھے اور وکلا کی جانب سے ایمرجنسی وارڈز میں گھسنے کے بعد انہیں طبی امداد نہ مل سکی.

واضح رہے کہ مذکورہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب وکلا نے الزام عائد کیا کہ وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ینگ ڈاکٹرز وکلا کا مذاق اڑا رہے تھے جس پر انہوں نے سوشل میڈیا پر مہم چلائی۔

مشتعل افراد نے پولیس موبائل کو بھی آگ لگا دی—فوٹو: ڈان نیوز
مشتعل افراد نے پولیس موبائل کو بھی آگ لگا دی—فوٹو: ڈان نیوز

تاہم ڈاکٹر کے مطابق وکلا کا ایک گروپ انسپکٹر جنرل کے پاس گیا تھا اور انہیں کہا تھا کہ 'دو ڈاکٹرز' کے خلاف اے ٹی اے کی دفعہ 7 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، تاہم ان کے بقول آئی جی نے اس معاملے پر انکار کردیا۔

بعد ازاں آج وکلا کی بڑی تعداد 'ویڈیو' کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لیے پی آئی سی کے باہر جمع ہوئی، تاہم یہ احتجاج پرتشدد ہوگیا اور وکلا نے پہلے ہسپتال کے داخلی و خارجی راستے بند کردیے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ میں وکلاء کی ہنگامہ آرائی، پولیس کی شیلنگ

رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے ہسپتال کے گیٹ توڑتے ہوئے ہسپتال میں داخل ہوگئے، وکلا نے نہ صرف ہسپتال پر پتھر برسائے بلکہ ہسپتال کی ایمرجنسی کے شیشے توڑے اس کے ساتھ ڈنڈوں اور لاتوں سے باہر کھڑی گاڑیوں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا۔

ہنگامہ آرائی کے باعث کچھ مریض ہسپتال نہیں پہنچ سکے جبکہ ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کے ساتھ ڈاکٹروں کو دکھانے کے لیے آنے والے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک شخص نے اسلحے کے زور پر دکان بند کروادی—فوٹو: ڈان نیوز
ایک شخص نے اسلحے کے زور پر دکان بند کروادی—فوٹو: ڈان نیوز

وکلا کی جانب سے ہسپتال کے آئی سی یو، سی سی یو اور آپریشن تھیٹر کی جانب بھی پیش قدمی کی گئی جبکہ ہسپتال کے کچھ عملے کی جانب سے بھی وکلا پر تشدد کیا گیا۔

ہسپتال پر دھاوے، توڑ پھوڑ کے باعث اپنی جان بچانے لیے عملہ فوری طور پر باہر نکل گیا۔

یہی نہیں بلکہ مشتعل وکلا نے میڈیا کے نمائندوں پر بھی پتھراؤ کیا جس سے ڈان نیوز ٹی وی کی خاتون رپورٹر کنزہ ملک زخمی ہوگئیں جبکہ ان کا موبائل بھی چھین لیا گیا۔

بگڑتی صورتحال کے پیش نظر پولیس کی اضافی نفری موقع پر پہنچی اور حالات پر قابو پانے کی کوشش کی، تاہم اس دوران مشتعل افراد نے ایک پولیس موبائل کو بھی آگ لگادی۔

ادھر پولیس نے مشتعل وکلا کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور لاٹھی چارج بھی کیا۔

پولیس نے کچھ وکلا کی کو گرفتار کرلیا، جس پر وکلا نے سول سیکریٹریٹ کے اطراف کی سڑک کو بند کردیا۔

جائے وقوع پر صورتحال کے پیش نظر پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد بھی پی آئی سی پہنچی جبکہ ڈی آئی جی آپریشن ہسپتال پہنچے۔

ڈی آئی جی آپریشن کا کہنا تھا کہ 'جن لوگوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا ان سے سختی سے نمٹا جائے گا'۔

علاوہ ازیں مذکورہ واقعے کے بعد لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر اور سیکریٹری پی آئی سی ہسپتال پہنچے اور وکلا کے ساتھ مذاکرات کرنے کی کوشش کی۔

معاملہ شروع کہاں سے ہوا؟

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب چند روز قبل کچھ وکلا پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیولوجی میں ایک وکیل کی والدہ کے ٹیسٹ کے لیے گئے، جہاں مبینہ طور پر قطار میں کھڑے ہونے پر وکلا کی جانب سے اعتراض کیا گیا۔

اسی دوران وکلا اور ہسپتال کے عملے دوران تلخ کلامی ہوئی اور معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا اور مبینہ طور پر وہاں موجود وکلا پر تشدد کیا گیا۔

مذکورہ واقعے کے بعد دونوں فریقین یعنی وکلا اور ڈاکٹرز کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور ایک دوسرے پر مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا، تاہم بعد ازاں ڈاکٹرز کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

اس مقدمے کے اندراج کے بعد وکلا کی جانب سے کہا گیا کہ ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کریں، تاہم پہلے ان دفعات کو شامل کیا گیا بعد ازاں انہیں ختم کردیا گیا۔

جس کے بعد ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں مذکورہ واقعے پر معافی مانگ لی گئی اور معاملہ تھم گیا۔

تاہم گزشتہ روز ینگ ڈاکٹرز کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک ڈاکٹر کو اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس میں مبینہ طور پر وکلا کا 'مذاق' اڑایا گیا تھا، جس پر وکلا نے سوشل میڈیا پر ڈاکٹر کے خلاف مہم شروع کردی۔

اس معاملے پر بدھ کو ایوان عدل میں لاہور بار ایسوسی ایشن کا اجلاس عاصم چیمہ کی سربراہی میں ہوا جس میں مزید کارروائی کے لیے معاملے کو جمعرات تک ملتوی کردیا گیا، تاہم کچھ وکلا نے بدھ کو ہی ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پی آئی سی کا رخ کیا۔

فیاض الحسن چوہان پر تشدد

وکلا نے صوبائی وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان پر بھی تشدد کیا
وکلا نے صوبائی وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان پر بھی تشدد کیا

پی آئی سی پر دھاوے کے دوران پنجاب کے وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان بھی ہسپتال پہنچے، تاہم ان پر بھی مشتعل افراد جو بظاہر وکلا نظر آرہے تھے انہوں نے تشدد کیا۔

مذکورہ معاملے کی ایک ویڈیو سامنے آئی، جس میں فیاض الحسن چوہان پر تشدد اور انہیں بالوں سے پکڑتے ہوئے دیکھا گیا۔

اس حوالے سے صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ 'وکلا نے انہیں اغوا' کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ جنہوں نے ظلم کیا ہے انہیں معاف نہیں کیا جائے گا اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی ہوگی اور انہیں نشان عبرت بنایا جائے گا۔

فردوس عاشق اعوان نے لکھا کہ لاقانونیت کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا، قانون کی وردی پہننے والوں کو قانون کی پاسداری کرنا ہوگی۔

وزیراعظم کا نوٹس

ادھر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیولوجی کی بگڑتی صورتحال پر وزیراعظم عمران خان نے بھی نوٹس لے لیا۔

وزیراعظم عمران خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی۔

وزیراعلیٰ کا نوٹس

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار جو واقعے کے وقت اسلام آباد میں تھے، انہوں نے بھی پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلا کی جانب سے ہنگامہ آرائی کے واقعہ کا سخت نوٹس لے لیا۔

انہوں نے سی سی پی او لاہور اور صوبائی سیکریٹری سپشلائزڈ ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

وزیراعلیٰ نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ہنگامہ آرائی کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی۔

مزید پڑھیں: لاہور: وکلا کا پولیس افسر پر تشدد، چیف جسٹس کا ازخود نوٹس

وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ کوئی قانون سے بالا تر نہیں امراض قلب کے ہسپتال میں ایسا واقعہ ناقابل برداشت ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مریضوں کے علاج معالجے میں رکاوٹ ڈالنا غیر انسانی اور مجرمانہ اقدام ہے، پنجاب حکومت ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے گی۔

ملک گیر ہڑتال کا اعلان

ادھر ینگ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن (وائی سی اے) نے اس پرتشدد مظاہرے کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان کردیا گیا۔

وائی سی اے کے صدر ڈاکٹر حمید بٹ نے کہا کہ کل (جمعرات) کو پنجاب بھر میں کوئی کنسلٹنٹ ڈیوٹی پر نہیں جائے گا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وکلا کی جانب سے توڑ پھوڑ قابل مذمت ہے۔

کشیدہ حالات کے پیش نظر رینجرز طلب

بعد ازاں صوبائی حکومت نے لاہور میں کشیدہ حالات کے پیش نظر رینجرز کو غیر معینہ مدت کے لیے طلب کر لیا۔

شہر میں رینجرز کی تعیناتی سے متعلق وزارت داخلہ سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ رینجرز کی 10 پلاٹون شہر کے مختلف مقامات پر تعینات ہوں گی، جبکہ 2 کمپنیاں بیک اَپ میں ہوں گی۔

ان مقامات میں گورنر ہاؤس، پنجاب اسمبلی، جی پی او چوک، پنجاب سول سیکریٹریٹ، ایوان عدل، سپریم کورٹ آف پاکستان، لاہور ہائی کورٹ، آئی جی آفس اور پی آئی سی شامل ہیں۔

آج کے واقعے سے سر شرم سے جھک گیا، اعتزاز احسن

لاہور میں پیش آنے والے واقعے پر سینئر وکیل اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رہنما اعتزاز احسن نے ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کا واقعہ انتہائی شرمناک ہے، آج کے واقعے سے میرا سر شرم سے جھک گیا۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میں 30 ہزار وکلا ہیں، لاہور بار ایسوسی ایشن کے ممبران ہی کوئی 25 ہزار ہے لیکن یہ کام کوئی 200 سے 300 وکلا نے کیا ہے، جس میں سے بھی زیادہ تر جنوری میں آنے والے انتخابات کے امیدوار ہوں گے۔

دوران گفتگو ان کا کہنا تھا کہ جس قسم کا واقعہ آج کیا گیا وہ بہت ہی شرمناک ہے، اس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے جبکہ جو بھی پرتشدد کارروائی میں نظر آتا ہے اسے انتخابات میں حصہ نہیں لینے دینا چاہیے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ اس واقعے سے دیگر وکیلوں کی عزت خراب ہوئی، میرا اس شعبے سے 50 سال سے زائد تعلق رہا ہے لیکن آج میرا سر شرم سے جھک گیا کہ ہم کالے کوٹ کی کیا عزت بنا رہے ہیں۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سب ایک ہسپتال پر کیا گیا، کالے کوٹ والوں نے شیشے توڑے، سرجیکل وارڈ میں داخل ہوگئے تاہم اس طرح کا کام بالکل نہیں ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ میری یہ رائے ہوگی کہ جن وکلا نے یہ سب کیا ہے انہیں انتخاب میں ووٹ نہیں دینا چاہیے۔

پاکستان بار کونسل کا اظہار مذمت

ادھر پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین سید امجد شاہ نے ایک نیوز چینل سے گفتگو میں ہنگامہ آرائی کی مذمت کی اور کہا کہ 'یہ چند وکلا کا انفرادی عمل تھا'۔

انہوں نے کہا کہ 'پہلے ڈاکٹرز نے بدتمیزی کی جس کے بعد وکلا مشتعل ہوئے، تاہم ہم کسی طرح کے تشدد کی حمایت نہیں کرتے'۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ پنجاب بار کونسل کے چیئرمین کے چیئرمین کی سربراہی میں واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کردی گئی۔