پی آئی سی حملہ: یہ نیا پاکستان ہے یا دیوانوں کی دنیا؟

12 دسمبر 2019

ای میل

وہ ویڈیو واقعی دنگ کردینے والی ہے۔ گزشتہ روز لاہور میں وکلا کے ایک مشتعل گروہ نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ایک ویڈیو گردش کرتی رہی جس میں لمبے بالوں والا ایک شخص کسی کے کاندھوں پر سوار ہوکر ارد گرد جمع لوگوں کے ایک بڑے ہجوم سے داد وصول کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

وہ شخص اس ہجوم کو سلیوٹ کرتا ہے، وہ اپنا ہاتھ کچھ اس طرح سینے پر رکھتا ہے جیسے لوگوں کا شکریہ ادا کر رہا ہو، وہ پھر سے انہیں اس انداز میں سلیوٹ کرتا ہے جیسے انہیں مخاطب کررہا ہو کہ ’آپ کا تہہ دل سے شکریہ‘، جواباً ہجوم ہاتھ اوپر اٹھا کر زبردست نعرے بازی کرنے لگتے ہیں۔ ان کے پس منظر میں پی آئی سی عمارت واضح نظر آ رہی ہے، جس کا مطلب یہی ہوا کہ یہ ویڈیو واقعے کے فوراً بعد ریکارڈ کی گئی ہے۔

واقعے سے کچھ دیر پہلے بھی ایک ویڈیو محفوظ کی گئی تھی۔ یہ ویڈیو پی آئی سی کی طرف بڑھنے والوں میں سے ایک نے بظاہر براہِ راست نشر کی تھی۔ اس ویڈیو میں ہاتھ میں کیمرا تھامے شخص کو یہ شور مچاتے سنا جاسکتا ہے کہ، ’ہم آ رہے ہیں! ہم آ رہے ہیں ڈاکٹروں!‘ اس شخص کے ارد گرد لوگوں کا ہجوم تھا، جن کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھری ہوئی تھیں اور پوری طرح سے مشتعل تھے، سڑک پر رواں دواں یہ لوگ خوش مزاج اور مار پیٹ کے لیے پوری طرح سے تیار نظر آرہے تھے۔

نوجوان وکیل کیمرا اوپر اٹھاتا ہے اور اپنے پیچھے آنے والے کالے کوٹوں میں ملبوس وکلا کے ہجوم کی قوت دکھاتا ہے۔

’لوگوں کا سمندر دیکھو ڈاکٹر!‘ ہجوم میں سے ایک شخص چیختا ہے۔ ایک اور شخص زور دار آواز میں کہتا ہے کہ، ’گھس کر ماریں گے، گھس کر!‘

ویڈیو ریکارڈ کرنے والا شخص کیمرے میں دیکھ کر چہرے پر مسکراہٹ پھیلائے اپنی انگلی ہوا میں لہراتے ہوئے کہتا ہے کہ ’آج ہوگا بائی باس! آج تمہیں اسٹنٹ ڈلیں گے!‘ وہ شخص ایک بار پھر کیمرا اوپر اٹھا کر اس بڑے ہجوم کو دکھاتے ہوئے کہتا ہے کہ ’آج تو تم گئے! یہ دیکھو ہمارا لشکر!‘۔

’آج تم دیکھو گے کہ پتھر کیسے روتے ہیں۔‘

ویڈیو کی یہ آخری لائن دراصل اس ویڈیو میں شامل چھوٹی نظم کی ہے جس نے بظاہر اس پورے معاملے کو ہوا دی۔

کچھ دن پہلے منظرِ عام پر آنے والی اس ویڈیو میں ایک پُراعتماد نوجوان بڑے ہی پُرسکون انداز میں ہجوم سے مخاطب ہے۔ نوجوان ڈاکٹر بینچ پر کھڑا ہوکر اپنے سامنے موجود مجمعے کو لطیفے سناتے اور وکلا کی آواز اور لہجے کی نقل اتارتے ہوئے وہ کہانی بتا رہا ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس پورے معاملے کا آغاز ہوا تھا۔ اس کہانی میں وہ بتاتا ہے کہ کس طرح وکلا اس کے خلاف مقدمہ داخل کروانے کے لیے ایک سے دوسرے دفتر گئے لیکن ناکام رہے۔

وہ کہتا ہے کہ ایک کیس کے دوران ’لمبے بالوں والا وکیل کہتا ہے کہ براہِ مہربانی مقدمہ دائر کریں تاکہ ہمارا چہرہ بچ جائے‘، لیکن جس پولیس افسر سے یہ درخواست کی گئی تھی انہوں نے مقدمہ دائر کرنے سے انکار کردیا۔

ویڈیو میں نوجوان ڈاکٹر کو پوری لطف اندوزی کے ساتھ کہانی سناتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ وہ مجمعے کو بتاتا ہے کہ جب اس نے وکلا کی جانب سے افسر کو دباؤ میں لانے کی تمام کوششیں ناکام ہوتے دیکھیں تب وہ ’دل ہی دل میں ہنس رہا تھا‘۔

وہ مزید کہتا ہے کہ ’اور جیسا کہ آپ کو پتا ہے کہ ہنستے ہنستے مجھے شعر یاد آجاتا ہے‘۔

اس کے بعد وہ یہ شعر سناتا ہے،

سنا ہے اس کے اشکوں سے بجھی ہے پیاس صحرا کی

جو کہتا تها کہ پتھر ہوں، مجھے رونا نہیں آتا‘

تو جناب یہ تھا سارا ماجرہ۔ ایک ہسپتال میں چند وکلا اور چند ڈاکٹرز کے درمیان تنازع کھڑا ہوگیا۔ وکلا نے معاملے کو بڑھانے کی کوشش کی لیکن ان کی شکایت کا ازالہ نہیں کیا گیا۔ اور پھر انہوں نے ساکھ بچانے کے لیے معاملے کو ختم کردینا چاہا۔

بظاہر، بقول حکومتِ پنجاب، دونوں گروہوں میں کچھ دن پہلے صلح ہوگئی تھی اور معاملہ ختم ہوگیا تھا۔ پھر ایک نوجوان ڈاکٹر کی ویڈیو منظرِ عام پر آئی جس میں وہ اپنے شوخ لہجے اور جاذب نظر انداز میں اس تنازع سے جڑے واقعات سناتا ہے اور اس دوران وہ اس شعر کا تڑکا بھی لگادیتا ہے۔

ویڈیو دیکھ کر وکلا طیش میں آگئے، خاص طور پر اس ’لمبے بالوں والے‘ وکیل کو شدید غصہ آیا جس کا نام نوجوان ڈاکٹر نے اپنی ویڈیو میں عدیل بتایا ہے۔ واقعے کے بعد پنجاب بار کونسل نے ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں کہا گیا کہ وکلا کا مذاق اڑایا گیا ہے لہٰذا انہوں نے پُرامن طریقے سے ہسپتال کا رخ کیا، لیکن اس پریس ریلیز میں کہیں بھی تشدد کا ذکر نہیں ملتا۔

کس طرح ان چبھتی باتوں نے اس بدترین حملے کی راہ ہموار کی اس حوالے سے اب بہت سی مختلف کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ مشتعل ہجوم جبراً ہسپتال میں داخل ہوا اور وہاں دھاوا بول دیا، ان کے راستے میں مریض سمیت جو بھی آیا اسے پیٹا گیا۔ مریضوں کے آکسیجن ماسک اتار دیے گئے، ان کی رگوں میں پیوست سوئیاں اکھاڑ دی گئیں، ان کے تیمارداروں کو ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ آئی سی یو خالی کروا دیا گیا، یہاں تک کہ آپریشن تھیٹر کو بھی نہیں بخشا گیا۔ ڈاکٹر اور نرسز ہسپتال کی حدود سے غائب ہوگئے جبکہ مریضوں کی جان بچانے کے لیے انہیں وہیل چیئرز پر ہسپتال سے باہر لایا گیا۔ اور سب سے افسوسناک بات یہ کہ اس واقعے کے نتیجے میں تشویشناک حالت سے دوچار 4 مریضوں کی موت واقع ہوگئی۔

دراصل اس واقعے کی بنیادی وجہ انا ہے۔ آج میں نے اپنے بھائی کی یاد میں بستر کے ایک طرف موم بتی جلائی ہے۔ میرے بھائی نے قریب ڈیڑھ دہائی پہلے اسی ہسپتال کے آئی سی یو میں تقریباً 2 ہفتے گزارے تھے، جہاں ان کا پیچیدہ آپریشن ہوا تھا۔ جب میں نے خالی آئی سی یو اور ان مریضوں کے ورثا کی ویڈیو دیکھی جو طبیعت کی خرابی کے باوجود آئی سی یو خالی کرنے پر مجبور ہوئے تو مجھے اس واقعے کی شدت اور جرم کی سنگینی کا خوب اندازہ ہوا۔

بدھ کے روز پی آئی سی میں جو کچھ ہوا وہ ہماری انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر کسی دھبے سے کم نہیں ہے۔ ساہیوال واقعے کے بعد بھی عوامی حلقوں میں ایسا غم و غصہ دکھائی دیا تھا اور خود وزیرِاعظم نے بھی ’تیز ترین انصاف‘ فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ واقعہ فروری میں پیش آیا تھا۔ تاہم اکتوبر کے آتے آتے اس واقعے میں ملوث 6 کے 6 پولیس اہلکار مقدمے سے بری ہوچکے ہیں۔ حکومت نے اپیل دائر کرنے کا وعدہ کیا، مگر اس وقت سے لے کر اب تک کسی نے بھی اس کیس پر لب کشائی نہیں کی۔ اس واقعے کو خاموشی سے سرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے اور بھلایا جاچکا ہے۔

اگر یہی سب اس واقعے کے ساتھ ہوتا ہے تو ہماری انسانیت کے ضمیر پر لگا یہ داغ کبھی بھی نہیں دھل سکے گا۔ بار کونسل کے رہنما تو حکومت سے ٹکرانے کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ چند وزرا اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ فیصل واؤڈا کی ٹوئیٹ ہی پڑھ لیجیے، جس میں وہ لکھتے ہیں کہ ’یہ مسلم لیگ (ن) کے اشاروں پر چلنے والے مجرمان تھے‘۔

کیا ہم نئے پاکستان میں رہ رہے ہیں یا پھر دیوانوں کی دنیا میں؟


یہ مضمون 12 دسمبر 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔