اسلام آباد پولیس نے وردی پر نصب کیمرے کا باقاعدہ استعمال شروع کردیا

اپ ڈیٹ 23 جنوری 2020

ای میل

سیکیورٹی ناکوں پر ریکارڈ شدہ ویڈیو کا ریکارڈ روزانہ کی بنیاد پر زونل ایس پی کے دفتر میں محفوظ رکھا جائے گا — فوٹو بشکریہ شکیل قرار
سیکیورٹی ناکوں پر ریکارڈ شدہ ویڈیو کا ریکارڈ روزانہ کی بنیاد پر زونل ایس پی کے دفتر میں محفوظ رکھا جائے گا — فوٹو بشکریہ شکیل قرار
پولیس نے اپنی مدد آپ کے تحت 10 کیمروں کی خریداری کی — فوٹو بشکریہ شکیل قرار
پولیس نے اپنی مدد آپ کے تحت 10 کیمروں کی خریداری کی — فوٹو بشکریہ شکیل قرار

اسلام آباد پولیس کے ناکوں پر موجود اہلکاوں نے مکمل ٹریننگ کے بعد باقاعدہ طور پر کیمروں کا استعمال شروع کردیا۔

انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد محمد عامر ذوالفقار خان کی وفاقی وزیر داخلہ سید اعجاز شاہ سے ملاقات کے دوران سیکیورٹی ناکوں پر مامور جوانوں کی وردی میں نصب کیے جانے والے ویڈیو کیمروں کے بارے میں بریف کیا۔

اس موقع پر ڈی آئی جی آپریشنز وقار الدین سید بھی موجود تھے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد پولیس کے جعلی اکاؤنٹ سے مضحکہ خیز ٹوئٹس، شہری حیران

آئی جی اسلام آباد نے وفاقی وزیر داخلہ کو کیمروں کے فوائد کے بارے میں بتایا اور کہا کہ وردی پر نصب شدہ ویڈیو کیمرے اندھیرے میں بھی ویڈیو بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نصب کیے گئے کیمرے شہریوں اور ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار کے درمیان ہونے والی گفتگو ریکارڈ کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ناکوں پر ریکارڈ شدہ ویڈیو کا ریکارڈ روزانہ کی بنیاد پر زونل ایس پی کے دفتر میں محفوظ رکھا جائے گا۔

آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پولیس نے اپنی مدد آپ کے تحت 10 کیمروں کی خریداری کی جنہیں ناکوں پر کھڑے پولیس اہلکاروں کے یونیفارم پر نصب کیا جائے گا، جو جدید ترین ٹیکنالوجی سے منسلک ہوں گے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جلد ضلع بھر کے ناکوں پر یہ کیمرے فراہم کردیے جائیں گے'۔

انہوں نے بتایا کہ 'دوسرے مرحلے میں گشت پر مامور اہلکاروں اور تھانوں کی سطح پر ڈیوٹی آفیسر کو یہ سہولت فراہم کی جائے گی'۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد پولیس کا میجر لاریب کے 'قاتلوں' کو گرفتار کرنے کا دعویٰ

انہوں نے کہا کہ 'مستقبل میں ان کیمروں سے لا اینڈ آرڈر کی صورتحال میں مدد حاصل کی جاسکے گی'۔

آئی جی کا کہنا تھا کہ 'نصب کیے گئے کمیروں کو سیف سٹی پراجیکٹ کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے، ناکوں پر کھڑے پولیس اہلکاروں اور شہریوں کے درمیان گفتگو کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا'۔

وزیر داخلہ نے اسلام آباد پولیس کے اس اقدام کی تعریف بھی کی۔